شام: محصور شہروں کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی تشویش | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: محصور شہروں کی صورتحال پر اقوام متحدہ کی تشویش

شام میں فائر بندی کے نازک معاہدے پر کچھ حد تک عمل درآمد تو جاری ہے لیکن اس دوران عام شہریوں کی ایک بڑی تعداد شدید مشکلات کا شکار ہے۔ اقوام متحدہ نے اس صورتحال پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔

اقوام متحدہ نے شام کے محصور شہروں میں انسانی بحران سے خبردار کیا ہے۔ شام کے لیے اس عالمی ادارے کے ہنگامی امداد کے رابطہ کار علی الزعتری نے بتایا کہ الزبدانی، مضایا، الفوعہ اور کفریا نامی شہروں میں ساٹھ ہزار سے زائد بے گناہ شہریوں کا کئی ہفتوں سے بیرونی دنیا سے رابطہ منقطع ہے۔ انہوں نے مزید بتایا کہ اس دوران ان شہروں میں ادویات اور اشیاء خوردو نوش کی شدید قلت پیدا ہو چکی ہے، ’’ اقوام متحدہ کے قافلے آخری مرتبہ گزشتہ برس نومبر میں ان شہروں میں پہنچے تھے۔‘‘

الزبدانی اور مضایا صوبہ دمشق میں واقع ہیں اور شامی دستوں سمیت ان کے حمایت یافتہ جنگجو گروپوں نے ان دونوں شہروں کو گھیرے میں لے رکھا ہے جبکہ صوبہ ادلب کے شہر الفوعہ اور کفریا کا محاصرہ اسد مخالف باغیوں نے کر رکھا ہے۔ اقوام متحدہ کے نمائندے نے مزید بتایا کہ ان شہروں کے باسیوں کو روزانہ تشدد اور محرومی کا سامنا کرنا پڑتا ہے، ’’فریقین صرف اُسی وقت اقوام متحدہ کے امدادی قافلوں کو شہروں میں داخل ہونے کی اجازت دینے پر راضی ہوتے ہیں جب دوسرا فریق بھی ایسا ہی کرنے کی اجازت دے۔ یہ شہر طاقت کی رسہ کشی کی زد میں ہیں۔‘‘

اقوام متحدہ کے اندازوں کے مطابق شام میں سینتالیس لاکھ افراد ایسے علاقوں میں رہ رہے ہیں، جہاں تک رسائی انتہائی مشکل ہے۔ یہ عالمی ادارہ اس سے قبل بھی شام میں متعدد شہروں میں انسانی بحران کی صورتحال سے خبردار کر چکا ہے۔