1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام سے متعلق نئی قرارداد کے لیے بڑی طاقتوں کے مابین کشمکش

اقوام متحدہ کی عالمی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل اراکین ایک ایسی قرارداد کے مسودے پر متفق ہونے کی کوشش کر رہے ہیں، جس کے ذریعے شام میں پانچ سال سے جاری خانہ جنگی کے خاتمے کی بین الاقوامی کوششوں کا آغاز ممکن ہو سکے گا۔

New York Syrien-Konferenz

یہ بات چیت نیویارک کے پیلس ہوٹل میں ’انٹرنیشنل سیریا سپورٹ گروپ‘ کہلانے والے گروپ کے سترہ ارکان کے مابین ہو رہی ہے

مغربی طاقتیں امید کر رہی تھیں کہ عالمی سلامتی کونسل میں اُس قرارداد کو آسانی سے منظور کر لیا جائے گا، جس میں دو برسوں پر محیط ایک ایسے روڈ مَیپ کا ذکر کیا گیا ہے، جس کے تحت شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان ایک متحدہ حکومت کے قیام پر غالباً جنوری ہی میں بات چیت شروع ہو سکے گی اور ممکنہ طور پر آگے جا کر انتخابات کا انعقاد ہو سکے گا۔

کونسل میں موجود سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ وہ اس قرارداد کے مسودے پر اتفاقِ رائے ہو جانے کی امید کر رہے تھے تاہم جب جمعہ اٹھارہ دسمبر کی صبح سے نیویارک کے پیلس ہوٹل میں ’انٹرنیشنل سیریا سپورٹ گروپ‘ کہلانے والے گروپ کے سترہ ارکان کے مابین بات چیت شروع ہوئی تو کسی طرح کی ڈیل پر پہنچنا کافی مشکل دکھائی دینے لگا۔

ان مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری اور اُن کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف سمیت سترہ یورپی اور عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ کے ساتھ ساتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون بھی شریک ہیں۔

شام پر بحث کے لیے پندرہ رکنی سلامتی کونسل کا اجلاس عالمی وقت کے مطابق شب آٹھ بجے شروع ہونے والا ہے تاہم ابھی تک یہ بات واضح نہیں ہے کہ آیا اس اجلاس میں مجوزہ مسودہٴ قرارداد پیش بھی ہو سکے گا یا نہیں۔

اس مجوزہ روڈ مَیپ میں ملک بھر میں فائر بندی پر زور دیا گیا ہے، جس کا اطلاق ’اسلامک اسٹیٹ‘، نصرۃ فرنٹ اور کچھ دیگر عسکریت پسند گروپوں پر نہیں ہو گا۔ یہ روڈ مَیپ ویانا میں وزارتی سطح پر منعقد ہونے والے مذاکرات کے دو اَدوار میں تیار کیا گیا تھا۔

سلامتی کونسل میں روسی سفیر وطالی چُکین کے مطابق اس قرارداد کے مسودے پر کونسل کی ویٹو کا حق رکھنے والی طاقتوں یعنی امریکا، برطانیہ، فرانس، روس اور چین کے مابین اہم اختلافات پائے جاتے ہیں۔ جمعرات کو صحافیوں سے باتیں کرتے ہوئے اُنہوں نے کہا تھا:’’مجھے نہیں لگتا کہ یہ بیل منڈھے چڑھے گی کیونکہ ویانا میں جو دستاویزات تیار ہوئی ہیں، اُن میں کمی بیشی کی دانستہ یا نادانستہ کوششیں کی جا رہی ہیں، جو ہمیں قبول نہیں ہیں۔‘‘

New York Syrien-Konferenz Kerry Lawrow

ان مذاکرات میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری (بائیں) اور اُن کے روسی ہم منصب سیرگئی لاوروف سمیت سترہ یورپی اور عرب ملکوں کے وزرائے خارجہ شریک ہیں

سفارت کاروں کے مطابق قرارداد کے حوالے سے بڑا مسئلہ روس اور ایران کے یہ خدشات ہیں کہ اپوزیشن گروپوں کے اُس بلاک کو آخر کہا کیا جائے گا، جو جنوری سے اقوام متحدہ کی ثالثی میں شامی حکومت کے ساتھ شروع ہونے والے امن مذاکرات میں شریک ہو گا۔

ایسے ایک اپوزیشن بلاک کے خدوخال سعودی عرب میں منعقدہ ایک حالیہ اجلاس میں واضح ہوئے تھے تاہم ایران اور روس سعودی عرب کی میزبانی میں ہونے والے بحث مباحثے کی قانونی حیثیت پر سوال اٹھا رہے ہیں۔ ریاض میں ہونے والے اس اجلاس میں ایک چونتیس رکنی سیکریٹریٹ قائم کرنے پر اتفاق ہوا تھا اور کہا گیا تھا کہ یہی کمیٹی اپوزیشن کی مذاکراتی ٹیم کے ارکان کا بھی انتخاب کرے گی۔

چینی وزیر خارجہ وانگ ژی نے خبردار کیا کہ اگر نیویارک میں اب معاملات آگے نہ بڑھ سکے تو سیاسی عمل میں اب تک ہونے والی ساری پیشرفت اکارت جائے گی۔ وانگ نے کہا:’’ دو سب سے اہم معاملات میں سے ایک ہے، مذاکرات کا آغاز اور دوسرا فائر بندی۔‘‘

جرمن وزیر خارجہ فرانک والٹر شٹائن مائر نے کہا کہ شام سے متعلق مذاکرات میں ’کچھ حرکت‘ دکھائی دے رہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ نیویارک میں جاری مذاکرات کا ایک ہدف شامی حکومت اور اپوزیشن کے درمیان مذاکرات کا ٹائم ٹیبل طے کرنا ہے۔

Spanien Assad TV Interview

روس نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایک عبوری عرصے کے آخر میں بشار الاسد کی اقتدار سے رخصتی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن یہ کہ روس کھلے عام یہ بات نہیں کہے گا

رواں ہفتے کے آغاز پر سفارت کاروں نے ایک انتہائی مشکل معاملے یعنی صدر بشارالاسد کے مستقبل کے حوالے سے ایک اہم پیشرفت کی خبر دی تھی۔ سفارت کاروں کے مطابق روس نے عندیہ دیا تھا کہ وہ ایک عبوری عرصے کے آخر میں بشار الاسد کی اقتدار سے رخصتی کو قبول کرنے کے لیے تیار ہے لیکن یہ کہ روس کھلے عام اس بات کا اظہار نہیں کرے گا۔