1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام سے متعلق انسانی حقوق کی تنظیمیوں کا عرب لیگ سے مطالبہ

عرب اور بین الاقوامی انسانی حقوق کے سرکردہ کارکنان نے عرب لیگ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس لیگ میں شام کی رکنیت معطل کر دے کیونکہ صدر بشار الاسد اپنے سیاسی مخالفین کے خلاف طاقت کا ناجائز استعمال جاری رکھے ہوئے ہیں۔

default

بدھ کی شام انسانی حقوق کے 176 گروپوں نے مشترکہ طور پر عرب لیگ سے کہاکہ وہ اقوام متحدہ کی سکیورٹی کونسل کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے شام میں پر تشدد واقعات کے ذمہ داران کے خلاف ایکشن لے۔

نیویارک میں قائم ہیومن رائٹس واچ نے بھی کہا ہے کہ عرب لیگ کو چاہیے کہ وہ سکیورٹی کونسل کی طرف سے شام پر لگائی گئی پابندیوں کی حمایت کرے اور شام کی حکومت کے خلاف اپنی سطح پر بھی پابندیاں عائد کرے۔

انسانی حقوق کے لیے فعال ان گروپوں نے عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی کو لکھے گئے ایک مشترکہ خط میں زور دیا ہےکہ عرب ممالک کی نمائندہ یہ تنظیم شام میں خونریز کارروائیوں کو رکوانے میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے، ’عرب دنیا کے عوام شام میں جاری خونریزی کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ عرب لیگ اس حوالے سے مرکزی کردار ادا کرتے ہوئے عرب دنیا کی اقدار کی لاج رکھے‘۔

NO FLASH Nabil al-Arabi und Bashar al-Assad

شامی صدر بشار الاسد اور عرب لیگ کے سربراہ نبیل العربی، فائل فوٹو

اس خط میں مزید لکھا گیا ہے، ’ہم عرب لیگ پر زور دیتے ہیں کہ وہ شامی حکومت کے خلاف سلامتی کونسل کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں پر نہ صرف عمل کرے بلکہ اپنی سطح پر دمشق حکومت کے اثاثے منجمد کرنے کے علاوہ اسلحے کی خرید پر بھی پابندی عائد کرے‘۔

اسی ہفتے منگل کے روز قاہرہ میں ہوئے عرب لیگ کے وزرائے خارجہ  کے ایک اجلاس میں شامی حکومت پر زور دیا گیا تھا کہ وہ اپنی پر تشدد کارروائیوں کو فوری طور پر روک دے۔ دوسری طرف شامی صدر بشار الاسد اپنی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے یہ مؤقف اختیار کرتے ہیں کہ ملک میں جاری بد امنی کے پیچھے شرپسند عناصر کا ہاتھ ہے۔

دریں اثناء شام میں حکومت مخالف سیاسی کارکنوں اور فوج کے اپوزیشن مظاہرین کے ساتھ مل جانے والے ارکان کے خلاف آپریشن کرتے ہوئے ملکی سکیورٹی دستوں نے ترکی کے ساتھ سرحدی علاقے میں ایک نئی مسلح کارروائی کا آغا زکر دیا ہے۔ عینی شاہدین کے مطابق اس کارروائی کے دوران بکتر بند گاڑیوں میں سوار سینکڑوں کی تعداد میں شامی سپاہی جبل الزاویہ کے علاقے میں داخل ہو گئے۔ وہاں ان سرکاری دستوں نے مبینہ طور پر اندھا دھند فائرنگ کرنے کے علاوہ ٹیلی مواصلاتی رابطے کاٹ دیے اور مجموعی طور پر دس چھو‌ٹے چھوٹے شہروں اور دیہات پر قبضہ کر لیا۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM