1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام سے متعلق امریکی موقف میں سختی

امریکہ نے شامی حکومت سے متعلق اپنے موقف میں سختی پیدا کرتے ہوئے ’جبر و تشدد کو فوری طور پر روکنے‘ کا مطالبہ کیا ہے۔ وائٹ ہاؤس کے مطابق صدر بشار الاسد اپنی قوم کو خطرناک راستے پر لے کر جا رہے ہیں۔

default

شام میں جمعہ کو حکومت مخالف احتجاج کی روایت گزشتہ روز بھی قائم رہی، جس دوران مبینہ طور پر سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں درجنوں افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔ ترک اور شامی میڈیا کے مطابق شامی فورسز نے ترک سرحد کے قریب واقع شہر جِسر الشغور میں آپریشن کا آغاز کر دیا ہے۔ دمشق حکام کے مطابق اس آپریشن کا مقصد رواں ہفتے کے آغاز میں ’مسلح دہشت گردوں‘ کی طرف سے 120 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پیدا ہونے والی صورتحال پر قابو پانا ہے۔

ادھر وائٹ ہاؤس کے ترجمان جے کارنی نے صورتحال پر امریکی حکومت کے ردعمل سے متعلق ایک بیان جاری کیا ہے۔ ’’امریکہ شامی حکومت کی جانب سے ملک بھر بالخصوص شمال مغربی خطے میں تشدد کے ظالمانہ استعمال کی مذمت کرتا ہے۔‘‘ ان کے بقول امریکہ نے اس سے قبل شامی حکومت سے درخواست کی تھی کہ تحمل کا مظاہرہ کرے اور اپنے بیان کردہ نقصانات کے ازالے کے لیے مزید شہری ہلاکتوں کا سبب نہ بنے۔

فرانس اور برطانیہ نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ایک قرار داد پیش کرنے کا عندیہ دیا ہے، جس کے ذریعے شامی حکومت کی مذمت کی جائے گی۔ امریکہ سمیت سلامتی کونسل کے نو دیگر رکن ممالک نے اس کی حمایت کا عندیہ دیا ہے۔ جے کارنی کے بقول امریکہ شامی عوام کے ساتھ ہے، جنہوں نے ذاتی وقار اور جمہویت کی بحالی کے لیے ہمت کا مظاہرہ کیا ہے۔

Erdogan in Damaskus mit Syriens Präsident Bashar Assad

ترک وزیر اعظم ایردوآن شامی صدر بشار الاسد کے قریبی حلیف تصور کیے جاتے ہیں

دوسری جانب شام کے پڑوسی ملک ترکی کے وزیر اعظم نے بھی شامی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ترک وزیر اعظم رجیب طیب ایردوآن شامی صدر بشار الاسد کے قریبی ساتھی شمار کیے جاتے ہیں تاہم انہوں نے بھی شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ماری جانی والی خواتین کے جسموں کی بے حرمتی کو سفاکی قرار دیا ہے۔ وزیر اعظم ایردوآن کے بقول شامی سکیورٹی فورسز کا ظالمانہ کریک ڈاؤن ناقابل برداشت ہے اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے لیے مداخلت کی راہ ہموار کر رہا ہے۔

ترکی کے ساتھ ملحق شام کے سرحدی علاقے سے ہزاروں لوگ جان بچا کر ترکی چلے گئے ہیں۔ انسانی حقوق کی شامی تنظیموں کے مطابق حکومتی کریک ڈاؤن میں اب تک گیارہ سو سے زائد افراد مارے گئے ہیں۔ شامی حکومت اس خون خرابے کی ذمہ داری مسلح دہشت گردوں پر عائد کر رہی ہے۔ ریاستی ٹیلی وژن کی رپورٹوں کے مطابق یہ ’مسلح دہشت گرد‘ پولیس اور فوج کو ہلاک اور زخمی کر رہے ہیں۔

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس