1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام سے لوٹنے والے جہادی ’ٹائم بم‘ جیسے ہیں، فرنچ اہلکار

شام اور عراق میں داعش کو مختلف محاذوں پر پے در پے شکستوں کے بعد پسپائی کا سامنا ہے۔ ماہرین کے مطابق غیرملکی ’جہادی‘ اپنے اپنے ملکوں میں پہنچنے کے بعد ’سکیورٹی رِسک‘ ہوں گے۔

فرانس کے انسدادِ دہشت گردی کے پراسیکیوٹر فرانسوا مولیں نے ایک انٹرویو میں کہا ہے کہ اگرچہ شام اور عراق میں سرگرم دہشت گرد تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کو پسپائی کا سامنا ہےلیکن اب اُس کے غیرملکی جہادیوں نے واپس اپنے اپنے ملکوں کا رخ کرنا شروع کر دیا ہے۔ مولیں کے مطابق یہ بنیاد پرست ’جہادی‘ اپنے اپنے ملکوں کے اندر سکیورٹی کے لیے ایک بہت بڑا خطرہ بن سکتے ہیں۔

فرانسیسی پراسیکیوٹر نے ایسے جہادیوں کو ایسے ’ٹائم بم‘ قرار دیا ہے، جو کسی وقت بھی کوئی بڑی دہشت گردانہ واردات کر سکتے ہیں۔ اس تناظر میں یہ بھی خیال کیا جا رہا ہے کہ یہ جہادی پہلے ہی خودکار ہتھیاروں کے استعمال کی ٹریننگ حاصل کیے ہوئے ہیں اور یقینی طور پر وہ خام بارود سے بم سازی کے فن سے بھی آگاہ ہو سکتے ہیں۔

عراق اور شام میں ’اسلامک اسٹیٹ‘ کی خود ساختہ خلافت کا جغرافیائی حجم مسلسل سکڑتا جا رہا ہے۔ عراق میں ملکی فوج امریکی حمایت کے ساتھ اب بڑے شہر موصل کی بازیابی کی مہم شروع کرنے والی ہے۔ اُدھر شام میں ترکی کی فوجی مہم، روسی فضائی کارروائیوں اور شمالی شام سے اٹھنے والے امریکی حمایت یافتہ کرد فائٹرز کی پیشقدمی نے داعش کو تقریباً دیوار سے لگا دیا ہے۔

IS Islamischer Staat Flitterwochen

فرانس میں تقریباً ایک ہزار مشتبہ بنیاد پرست مسلمانوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے

فرانسیسی وزیراعظم مانویل والس نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فرانس سے تعلق رکھنے والے تقریباً سات سو عسکریت پسندوں میں سے بعض واپس فرانس پہنچ چکے ہیں اور بقیہ شام اور عراق میں ہی داعش کے ہمراہ ہیں۔ فرانسیسی پراسیکیوٹر فرانسوا مولیں نے اپنے ملک کے معتبر اخبار لے مونڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے یہ بھی کہا کہ جلد یا بدیر داعش کے ہمراہ جنگی کارروائیوں میں مصروف شدت پسندوں کی واپسی ہونے والی ہے اور تب وہ ایک انتہائی بڑا خطرہ ہوں گے۔

کئی اور ملکوں کی طرح فرانس نے بھی واپس آنے والے ’جہادیوں‘ کے گرد گھیرا تنگ کرنے کی قانون سازی کر لی ہے۔ مشتبہ ’جہادیوں‘ کو شام میں اُن کی موجودگی کے دوران شناخت کرنے کا مشکل مرحلہ بھی پیرس حکام نے شروع کر رکھا ہے۔ مولیں نے بتایا کہ تقریباً ایک ہزار مشتبہ بنیاد پرست مسلمانوں سے پوچھ گچھ کی جا چکی ہے اور ان میں سے 280 پر فرد جرم عائد کر دی گئی ہے۔ 167 استغاثہ کی شہادتوں کی بنیاد پر جیل بھیجے جا چکے ہیں۔

فرانس کے غیر ممالک میں خفیہ کارروائیاں کرنے والے ادارے DGSE کے ایک سابق تجزیہ کار ایو ٹروٹنیوں نے ان سزا یافتہ مسلمان انتہا پسندوں کو انتہائی خطرناک قرار دیتے ہوئے اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ یہ رہائی کے بعد بھی بدستور سلامتی کے لیے خطرہ ہوں گے۔