1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام سے روس کے جزوی فوجی انخلاء کی اصل وجہ کیا ہے؟

روسی صدر ولادیمیر پوٹن کے شام سے جزوی فوجی انخلاء کے اچانک فیصلے کے محض چند ہی گھنٹے بعد ماسکو کے اولین جنگی طیارے شام سے واپس روس کے لیے روانہ ہو گئے۔ لیکن سوال یہ ہے کہ اس فیصلے کی اصل وجہ کیا بنی؟

Syrien russische Kampfjets

شام میں روسی فضائیہ کا اڈہ

مشرق وسطیٰ کے امور کے معروف جرمن ماہر میشاعیل لُوڈرز نے اس بارے میں ڈوئچے ویلے ٹیلی وژن کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ بنیادی طور پر تبدیل کچھ بھی نہیں ہوا۔ شام میں روس کے دو عسکری اڈے ابھی بھی موجود ہیں۔ ان میں سے ایک روسی فضائیہ کا اڈہ ہے اور دوسرا روسی بحریہ کا۔ ماسکو کی طرف سے شامی صدر بشار الاسد کی حکومت کے لیے فوجی تائید و حمایت کا سلسلہ ابھی تک جاری ہے۔

میشاعیل لُوڈرز کے مطابق گزشتہ چند ہفتوں کے دوران یہ ضرور ہوا کہ دمشق حکومت کے فوجی دستے روس کی عسکری حمایت کے ساتھ ملک کے بہت سے علاقے ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا داعش کے قبضے سے چھڑانے میں کامیاب ہو گئے اور فوجی حوالے سے اسد حکومت آج ماضی کے مقابلے میں کہیں بہتر پوزیشن میں ہے۔

لُوڈرز نے، جو اسلامی امور کے ماہر بھی ہیں، کہا کہ روسی صدر پوٹن نے شام سے ماسکو کے جزوی فوجی انخلاء کا جو فیصلہ کیا ہے، اس کا وقت ہی سب سے اہم ہے۔ اپنے اس فیصلے کے سلسلے میں ولادیمیر پوٹن نے اس بات کا بھی دھیان رکھا ہے کہ جنیوا میں شام سے متعلق امن مذاکرات کا آغاز بھی ہو چکا ہے۔ اور وہ ان مذاکرات کی حمایت کرتے ہوئے فوجی حوالے سے زیادہ عرصے تک شام میں موجود نہیں رہنا چاہتے تھے۔ ’’اسی لیے ان کا یہ فیصلہ شطرنج کی ایک چال کی طرح ہے۔‘‘

تو کیا یہ کہا جا سکتا ہے کہ روسی صدر پوٹن نے شام سے جزوی فوجی انخلاء کے ساتھ اب جنیوا مذاکرات کی صورت میں امن کے لیے ایک نئی بنیاد کو مضبوط بنا دیا ہے؟ اس سوال کے جواب میں میشاعیل لُوڈرز نے کہا، ’’امن مذاکرات فی الحال عملاﹰ تو اس فوجی انخلاء کے فیصلے سےمتاثر نہیں ہوتے لیکن پوٹن کا یہ اقدام ایک علامتی پیش رفت ضرور ہے۔ اس کے علاوہ یہ بات بھی نہیں بھلائی جانی چاہیے کہ شام میں سرگرم چھوٹے بڑے ملیشیا گروپوں اور مسلح گروہوں کی تعداد ایک ہزار سے زائد بنتی ہے۔ مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں ’پراکسی وار‘ تو ابھی تک جاری ہے۔‘‘

میشاعیل لُوڈرز کے بقول مغربی ممالک، امریکا، یورپی یونین، ترکی اور سعودی عرب، ہر کوئی دمشق میں اسد حکومت کا خاتمہ چاہتا ہے۔ لیکن انہی سب طاقتوں کو اب یہ بات بھی کسی طرح برداشت کرنا ہو گی کہ اس وقت بشار الاسد کی سیاسی اور عسکری حالت بظاہر چند ہفتے پہلے کے مقابلے میں کہیں بہتر ہے۔

Russland Wladimir Putin

روسی صدر ولادیمیر پوٹن

اس کے علاوہ شام کی آبادی میں کئی ایسے مذہبی اقلیتی گروپ بھی ہیں، جو بشار الاسد کی حکومت کی اس لیے حمایت کرتے ہیں کہ انہیں خوف ہے کہ اگر ’اسلامک اسٹیٹ‘ وہاں کبھی مکمل طور پر اقتدار میں آ گئی، تو ان کی حالت اب تک کے مقابلے میں کہیں زیادہ خراب ہو گی۔

مشرق وسطیٰ کے امور کے ماہر میشاعیل لُوڈرز نے ڈی ڈبلیو ٹی وی کے ساتھ اپنے اس انٹرویو میں زور دے کر کہا کہ روس کی صورت میں شامی تنازعے میں ایک ایسا کردار شامل ہو چکا ہے، جسے ہر کسی کو سنجیدگی سے لینا چاہیے۔

’’اس بات سے قطع نظر کہ شام میں اس وقت فائر بندی کا ایک عبوری وقفہ دیکھنے میں آ رہا ہے، اس ملک میں جنگ تو ابھی ایک بہت طویل عرصے تک جاری رہے گی کیونکہ اس تنازعے میں اپنا اپنا کردار ادا کرنے والے عناصر اور قوتوں کی تعداد بہت زیادہ ہے۔ ابھی ان میں سے کوئی بھی شام کی داخلی صورت حال پر اپنی مرضی کا حل مسلط نہیں کر سکتا۔ شام سے روس کا جزوی فوجی انخلاء بھی ایک نپی تلی عسکری اور سیاسی چال کی طرح اسی تناظر میں دیکھا جانا چاہیے۔‘‘

DW.COM