1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام سے ترکی منتقل ہونے والے پناہ گزینوں کے خلاف ’کارروائی‘

انسانی حقوق کے کارکنوں اور عینی شاہدین نے کہا ہے کہ شام کی فورسز پناہ گزینوں کو ترکی منتقل ہونے سے روک رہی ہیں۔ انہوں نے یہ الزام بھی لگایا ہے کہ پناہ گزینوں کی مدد کرنے والوں پر حملے کیے جا رہے ہیں۔

default

شام سے پناہ گزینوں کی ترکی منتقلی صدر بشار الاسد پر عالمی دباؤ بڑھا رہی ہے۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے شام کے شہری عمار القربی نے کہا ہے کہ حکومت نواز فورسز پناہ گزینوں کی مدد کرنے والوں کو بھی حملوں کا نشانہ بنا رہی ہیں۔

یہ صورت حال جمعہ کے ان مظاہروں کے بعد سامنے آئی ہے، جنہیں گزشتہ چار ماہ میں ہونے والا بڑا احتجاج قرار دیا جا رہا ہے۔ انسانی حقوق کے کارکنوں کے مطابق سکیورٹی فورسز نے جمعہ کے مظاہروں کے دوران تقریباﹰ انیس مظاہرین کو ہلاک کر دیا تھا۔

شام کے سرکاری خبر رساں ادارے کے مطابق صدر بشار الاسد پیر کو خطاب بھی کرنے والے ہیں۔ سولہ اپریل کے بعد یہ ان کی پہلی تقریر ہو گی جبکہ پرتشدد مظاہروں کے شروع ہونے کے بعد یہ ان کا تیسرا خطاب ہو گا۔

حکام پرتشدد واقعات کے لیے مسلح گروپوں اور اسلام پسندوں کو ذمہ دار ٹھہرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ایسے گروہوں کو غیرملکی امداد حاصل ہے۔ خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق شام نے متعدد بین الاقوامی صحافیوں کا داخلہ بند کر رکھا ہے، جس کے باعث ہلاکتوں کی تعداد کے بارے میں ملنے والی اطلاعات کی تصدیق مشکل ہو رہی ہے۔

Dmitri Medwedew in Russland Moskau Skolkowo bei seiner Pressekonferenz

روسی صدر دیمتری میدویدیف

روس کا مؤقف

روس کے صدر دیمتری میدویدیف نے کہا ہے کہ ماسکو حکومت اقوام متحدہ میں شام کے خلاف طاقت کے استعمال کی حمایت نہیں کرے گی۔ انہوں نے کہا: ’’میں لیبیا جیسی قرارداد کی حمایت کرنے کو تیار نہیں کیونکہ مجھے پورا یقین ہے کہ ایک اچھی قرارداد کو محض ایک کاغذ کے ٹکڑے میں بدلا جا چکا ہے، جسے بے معنی ملٹری آپریشن کو جائز ٹھہرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے۔‘‘

میدویف نے یہ باتیں فنانشل ٹائمز کے ساتھ انٹرویو میں کہیں، جس کا مکمل متن ماسکو حکومت نے پیر کو علی الصبح جاری کیا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس