1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: داعش نے تقریباﹰ چار سو افراد کو یرغمال بنا لیا

جہادی گروپ داعش نے روسی بمباری اور امریکی اتحادی افواج کے حملوں کے باوجود پیش قدمی کرتے ہوئے ایک بڑا حملہ کیا ہے اور شام کے مشرقی شہر دیر الزور میں کم از کم چار سو افراد کو یرغمال بنا لیا ہے۔

شامی تنازعے پر نگاہ رکھنے والی غیر سرکاری تنظیم سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہفتے کو داعش کے عسکریت پسندوں نے دیر الزور میں مختلف محاذوں پر ایک ساتھ حملوں کا آغاز کر دیا تھا اور اب تک اس لڑائی میں ایک سو پینتیس افراد مارے جا چکے ہیں۔

اس تنظیم کے مطابق ہلاک ہونے والوں میں پچاسی عام شہری جبکہ پچاس کے قریب حکومتی فوجی شامل ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ داعش کہ عسکریت پسندوں نے جس علاقے پر قبضہ کیا ہے، وہاں سے چار سو شہریوں کو یرغمال بنا لیا گیا ہے۔

اس تنظیم کے سربراہ رامی عبدالرحمان کا کہنا تھا، ’’جن کو اغوا کیا گیا ہے، وہ سبھی سُنی ہیں اور ان میں عورتیں، بچے اور حکومت کے حامی جنگجوؤں کے خاندانوں کے ارکان شامل ہیں۔‘‘ بتایا گیا ہے کہ داعش کے شدت پسند انہیں دیر الزور کے مغرب کی طرف اس علاقے میں لے گئے ہیں، جو مکمل طور پر ان کے زیر قبضہ ہے اور الرقہ صوبے سے ملحق اس علاقے کو داعش کا گڑھ تصور کیا جاتا ہے۔

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی اطلاعات کے مطابق اس لڑائی میں داعش کے تقریباﹰ بیالیس عسکریت پسند بھی مارے گئے ہیں جبکہ دو طرفہ لڑائی اتوار کے روز بھی جاری رہی۔ اسد فورسز کو روسی فضائیہ کی مدد بھی حاصل ہے۔

تازہ ترین اطلاعات کے مطابق حکومتی فورسز نے دوسری جگہوں سے اضافی فوجیوں اور فوجی سازو سامان کو اس محاذ پر لانا شروع کر دیا ہے۔ حکومتی نیوز ایجنسی سانا کے مطابق اس لڑائی میں تین سو افراد مارے گئے ہیں اور ان میں زیادہ تر تعداد خواتین، بچوں اور بوڑھوں کی تھی۔ اس نیوز ایجنسی نے ان ہلاکتوں کو ’قتل عام‘ قرار دیا ہے۔

داعش کی اس تازہ کارروائی کے بعد دیر الزور کا تقریباﹰ ساٹھ فیصد علاقہ داعش کے کنٹرول میں آ گیا ہے۔ دیر الزور صوبے کے زیادہ تر حصے پہلے ہی داعش کے کنٹرول میں ہیں لیکن داعش کے شدت پسند اس کے دارالحکومت، جس کا نام بھی دیر الزور ہی ہے، کی قریبی ایئر بیس پر قبضہ کرنا چاہتے ہیں، جسے حکومتی فورسز ابھی تک ناکام بناتی آئی ہیں۔

بتایا گیا ہے کہ اس کارروائی میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد میں مزید اضافہ ہو سکتا ہے جبکہ اس سے قبل سن دو ہزار چودہ میں داعش کے دیر الزور ہی میں کیے جانے والے ایک حملے میں سینکڑوں افراد مارے گئے تھے۔