1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: حکومتی فوج کی مشرقی حلب پر چڑھائی، شہری فرار

مشرقی حلب کے باغیوں کو شام کے صدر بشار الاسد کی حامی فوج کے شدید حملوں کا سامنا ہے۔ حکومتی فوج مشرقی حلب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کی بھرپور عسکری کوشش جاری رکھے ہوئے ہے جبکہ عام شہری گھر بار چھوڑ کر فرار ہو رہے ہیں۔

Syrien Angriffe auf Alleppo (Getty Images/AFP/G. Ourfalian)

شامی فوج مشرقی حلب کے باہر کھڑی ہے

مشرقی حلب کے عام شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا ہے کیونکہ حکومتی فوج نے باغیوں کو شکست دینے کے لیے حملوں کا سلسلہ تیز کر دیا ہے۔ حکومتی فوج کے آگے بڑھنے کا عمل انتہائی سسست ہے کیونکہ اُسے باغیوں کی شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔ اسد حکومت کی کوشش ہے کہ وہ جلد از جلد سارے حلب شہر پر قبضہ کر لے اور ایسی صورت میں دمشق حکومت اور فوج کے لیے یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔

حلب کا سارا شہر جنگ کے بعد تباہی و بربادی کا شکار ہو چکا ہے۔ شامی فوج کے ہوائی جہازوں نے مشرقی حلب میں پرچیاں پھینکی ہیں اور اُن پر باغیوں کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ عام شہریوں کو خوراک اور پانی دے کر شہر سے باہر جانے کی اجازت دیں۔ اس کے علاوہ باغیوں کو بھی کہا گیا ہے کہ وہ یہ علاقہ خالی کر دیں۔

شام کے حالات و واقعات پر نگاہ رکھنے والے مبصر گروپ سیرین آبزرویٹری برائے ہیومن رائٹس نے بتایا ہے کہ حالیہ ایام میں حکومتی فوج نے مشرقی حلب کے کئی علاقوں کو شدید بمباری کا نشانہ بنایا اور اس دوران بیرل بم بھی پھینکے گئے۔ شامی فضائیہ نے خاص طور پر مشرقی حلب کے علاقے مساکن ہنانو کو اپنی شدید بمباری کا نشانہ بنایا۔

Syrien Zerstörung in Bab al-Nayrab Aleppo (Getty Images/AFP/K. Al-Masri)

شامی شہر حلب ویران اور تباہی کا شکار ہو چکا ہے

گزشتہ ایک ہفتے کے دوران حکومتی فوج نے مساکن ہنانو کے ایک تہائی حصے پر قبضہ کر لیا ہے۔ باغی بھرپور مزاحمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹنے پر مجبور ہیں۔ یہ سارا علاقہ اپنے مکینوں سے محروم ہو چکا ہے کیونکہ اس کی کثیر آبادی راہِ فرار اختیار کر چکی ہے۔ سن 2012 میں باغیوں نے حلب کے اسی حصے پر قبضہ کیا تھا۔ اس علاقے کی بلدیاتی کونسل کے رکن میلاد شہابی کے مطابق مساکن ہنانو کے بیشتر آبادی  مشرقی حلب کی دوسری قریبی بستیوں میں منتقل ہو چکی ہے اور یہ بھی باغیوں کے قبضے والا علاقہ ہے۔

سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے رامی عبدالرحمان کا کہنا ہے کہ اگر شامی فوج پوری طرح مساکن ہنانو پر قابض ہو گئی تو یہ ایک بہت بڑی کامیابی ہو گی۔ فوج بڑی آسانی سے مشرقی حلب کو مختلف حصوں میں کاٹ دے گی اور اِس طرح شامی باغیوں کی مرکزی قوت کمزور ہونے کے علاوہ بکھر بھی جائے گی۔