1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: بُدھ کو حکومت کے لیے سزا کے دن کا اعلان

اُدھر شام کی اپوزیشن نے بُدھ کو عام ہڑتال کی اپیل کی ہے۔ یہ اقدام دمشق حکومت کی طرف سے جمہوریت کے حامی مظاہرین کی احتجاجی مہم کو کچلنے کے لیے جاری کریک ڈاؤن کا رد عمل ہے۔

default

شام میں مظاہروں کا سلسلہ جاری

شام کی وزارت داخلہ نے اس خبر کی تردید کی ہے کہ جنوبی شہر درعا میں کوئی اجتماعی قبر ملی ہے۔ اس بارے میں وزارت داخلہ کے ایک ترجمان نے سرکاری نیوز ایجنسی کو ایک بیان دیتے ہوئے کہا ’یہ خبر صریحاً بے بنیاد اور جھوٹ ہے۔ یہ شام کے خلاف اشتعال انگیزی اور جھوٹے پروپیگنڈے کی مہم کا حصہ ہے‘۔ قبل ازیں پیر کو حکومت مخالف مظاہروں میں شریک ایک سرگرم کارکن نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا تھا کہ دو ماہ سے جاری پُر تشدد احتجاج اور مظاہروں کے گڑھ کی حیثیت رکھنے والے شہر درعا کے قدیم علاقے میں ایک اجتماعی قبر دریافت ہوئی ہے۔ یہ علاقہ باہر کی دنیا سے بالکل کٹ چکا ہے۔

Syrien Militär Panzer Einsatz

مظاہرین کے خلاف فوجی آپریشن میں شدت

شام کی انسانی حقوق کی ایک نیشنل آرگنائزیشن کے کار کن امار قُرابی کے مطابق گزشتہ روز یعنی پیر ہی کو شامی فوج نے درعا کے شہریوں کو دو گھنٹوں کے لیے اپنے اپنے گھروں سے باہر نکلنے کی اجازت دی تھی۔ قرابی کے بقول’انہوں نے درعا شہر کے پرانے علاقے میں ایک اجتماعی قبر کا سراغ لگا لیا تاہم حکام نے فوری طور پر اس علاقے کو گھیرے میں لے لیا اور شہریوں کو وہاں جانے سے روک دیا گیا تاکہ وہ اجتماعی قبر سے لاشیں نہ نکال سکیں‘۔ تاہم ٹیلی فون کے ذریعے دیے گئے اس بیان میں قرابی نے کہا کہ حکام نے لاشوں کو بعد میں لواحقین کے سپرد کر دینے کا وعدہ کیا ہے۔

شامی حکومت کی طرف سے حال ہی میں لبنان کی سرحد کے نزدیک واقع شہر تال کلاخ میں مظاہرین کے خلاف ایک بہیمانہ آپریشن کیا گیا تھا۔ شام میں 2011ء کے دوران انقلاب کی کوششوں کے ضمن میں تیار کیے گئے ایک فیس بُک پیج پر بدھ کی ہڑتال کا ایک پوسٹر شائع کیا گیا ہے، جس پر درج ہے’کل شام میں ملک گیر ہڑتال ہو گی، حکومت کے لیے انقلابیوں اور آزادی کے خواہشمند عوام کی طرف سے سزا کا دن‘۔ یہ فیس بُک پیج انٹرنیٹ کے ذریعے منظم ایک اپوزیشن گروپ نے تیار کیا ہے، جو دو ماہ قبل شام میں عوامی بغاوت کی کوششوں کے آغاز میں ہی تشکیل دے دیا گیا تھا۔

Protest Homs Syrien 06.05.2011

شہر حمص بھی حکومت مخالف مظاہرین کا گڑھ مانا جاتا ہے

ہڑتال کی اپیل کرنے والے گروپ نے عوام سے کہا ہے کہ وہ اس بُدھ کو جمعے کا دن تصور کرتے ہوئے عام ہڑتال میں بھرپور حصہ لیں۔ تمام اسکول، یونیورسٹیاں ، بازار اور ریستوراں وغیرہ بند رہنے چاہییں، یہاں تک کہ ٹیکسیوں کی بھی مکمل ہڑتال ہو۔ ہڑتال کی یہ اپیل عین ایسے وقت پر کی گئی ہے، جب مغربی شہر تال کلاخ سے درجنوں لاشوں اور زخمیوں کے سڑکوں پر پڑے رہنے کی خبریں موصول ہو رہی ہیں۔ اس جگہ فوج کریک ڈاؤن پر خاص توجہ مرکوز کیے ہوئے ہے۔

دریں اثناء شام سے فرقہ ورانہ فسادات شروع ہونے کی اطلاعات بھی موصول ہو رہی ہیں۔ 22 ملین کی آبادی والے اس ملک میں اکثریت سنّی مسلمانوں کی ہے۔ یہاں علوی ایک چھوٹی شیعہ اقلیت کے طور پر آباد ہیں۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس