شام: بغاوت کی علامت سمجھے جانے والے شہر داریا سے انخلا شروع | حالات حاضرہ | DW | 26.08.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: بغاوت کی علامت سمجھے جانے والے شہر داریا سے انخلا شروع

شامی فوج کی طرف سے چار سالہ محاصرے کے بعد شہر داریا سے باغیوں اور شہریوں کا انخلا شروع ہو گیا ہے۔ یہ انخلا صدر اسد کی حکومت اور اس علاقے میں موجود باغی فورسز کے مابین طے پانے والے ایک معاہدے کے بعد شروع ہوا۔

ملکی دارالحکومت دمشق کے مضافات میں واقع داریا وہ پہلا علاقہ تھا، جہاں سے صدر اسد کے خلاف مزاحمت کا آغاز کیا گیا تھا۔ بتایا گیا ہے کہ یہ انخلا اتوار تک جاری رہے گا اور اس کے بعد سرکاری فوجی اس علاقے میں داخل ہو جائیں گے۔ تقریباﹰ سات سو باغیوں اور ان کے اہل خانہ کو باغیوں کے زیر کنٹرول علاقے ادلب میں پہنچایا جائے گا جبکہ ہزاروں شہری حکومتی کیمپوں میں پناہ لے لیں گے۔ یہ علاقہ چھوڑتے وقت زیادہ تر لوگ رو رہے تھے اور ان کے چہرے آنسوؤں سے تر تھے۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے ایک رپورٹر کے مطابق جس وقت بسیں داریا کے رہائشیوں کو لے کر وہاں سے نکلیں تو امدادی تنظیم ہلال احمر کی گاڑیاں بھی ان کے ہمراہ تھیں۔ داریا سے نکلنے والی پہلی بس میں زیادہ تر بچے اور خواتین سوار تھے۔

جس وقت یہ بسیں شہر سے باہر نکلیں تو وہاں موجود حکومتی فورسز نے اپنے ہتھیار فضا میں لہراتے ہوئے حکومت کے حق میں نعرے لگائے۔ حکومتی فورسز نے سن 2012ء سے داریا کا محاصرہ کر رکھا ہے اور اس علاقے پر مسلسل حکومتی بمباری جاری تھی۔ صدر اسد کی حامی فورسز کی اس فتح کے بارے میں داریا کے ایک مقامی باغی کا نیوز ایجنسی اے ایف پی سے گفتگو کرتے کہنا تھا، ’’یہ ایک مشکل وقت ہے، چھوٹا ہو یا کوئی بڑا، ہر کوئی اشک بار ہے۔‘‘

میڈیا اطلاعات کے مطابق شہریوں کو بعد ازاں حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں تقسیم کر دیا جائے گا جبکہ تمام باغی ادلب جائیں گے۔ ایک فوجی ذریعے کے مطابق جمعے کے روز تقریباﹰ تین سو باغیوں اور ان کے اہل خانہ کا انخلا مکمل کر لیا جائے گا۔

داریا شہر کو سن 2011ء میں صدر اسد کے خلاف شروع ہونے والی پرامن احتجاجی تحریک کی علامت سمجھا جاتا تھا کیوں کہ سب سے پہلا احتجاجی مظاہرہ اسی شہر میں ہوا تھا۔ اندازوں کے مطابق اب تک شامی تنازعے میں دو لاکھ نوے ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

داریا کے ایک رہائشی کا کہنا تھا، ’’انخلا سے پہلے لوگ ایک دوسرے کو الوداع کہہ رہے ہیں۔ اسکولوں کے بچے ایک دوسرے کو خدا حافظ کہہ رہے ہیں اور مائیں اس جنگ کے دوران ہلاک ہو جانے والے اپنے بیٹوں کی قبروں پر انہیں آخری سلام پیش کر رہی ہیں۔‘‘

باغیوں کے مطابق اس علاقے کو چھوڑنے کا فیصلہ اس وجہ سے کیا گیا کہ اب اس علاقے میں انسانوں کا رہنا مشکل ہو چکا تھا۔