1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام اور پاکستان کے درمیان ’جوہری تعاون کی نئی نشانیاں‘

اقوام متحدہ کے تفتیش کاروں کے مطابق شامی حکومت ممکنہ طور پر جوہری شعبے میں تعاون کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کے ساتھ مل کر کام کرتی رہی ہے۔

default

تفتیش کاروں نے خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کو بتایا ہے کہ شام کے شمال مغرب میں مبینہ طور پر بنائی گئی عمارتوں کے ڈیزائن یورینیم کی افزودگی کے اس پلانٹ سے ملتے ہیں، جو ڈاکٹر خان کی ہدایات کے تحت معمر قذافی نے تعمیر کیا تھا۔

اقوام متحدہ کی بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی کے مطابق پاکستانی سائنسدان عبدالقدیر خان اور دمشق حکومت کے ایک اہلکار محی الدین عیسیٰ کے درمیان رابطے بھی رہے ہیں۔ شام کے شہر الحسکہ میں بنائی جانے والی اس عمارت میں اب ایک کاٹن اسپننگ پلانٹ لگا ہوا ہے اور تفتیش کاروں کو ایسا کوئی اشارہ نہیں ملا کہ یہ عمارت کبھی جوہری مادوں کی تیاری کے لیے استعمال کی جاتی تھی۔

2007ء میں شام کے علاقے دیر الزور میں واقع ایک دوسرے مبینہ جوہری کمپلیکس کو اسرائیل نے حملہ کرتے ہوئے تباہ کر دیا تھا۔ اس واقعے کے بعد سے اقوام متحدہ کا جوہری ادارہ شام کے خلاف جوہری پروگرام کے حوالے سے اپنی تحقیقات جاری رکھے ہوئے ہے۔

Satelliten-Bild einer syrischen Atomfabrik VOR Bombardement durch Israel

اسرائیلی حملے میں تباہ ہونے والا مبینہ شامی جوہری پلانٹ

ڈاکٹر عبدالقدیر خان اور شامی حکومت کے مابین رابطوں کی تفصیلات آئی اے ای اے کی تحقیقات کا علم رکھنے والے ایک سفارت کار اور ایک سابق تفتیش کار نے بتائی ہیں۔ دونوں افراد نے معاملے کے حساس ہونے کی وجہ سے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی درخواست کی۔

سابق تفتیش کار کا کہنا ہے کہ ڈاکٹر خان سن 2004 میں شام کا دورہ کر چکے ہیں اور شامی حکومت اسے تسلیم بھی کر چکی ہے۔ شامی حکومت کے مطابق اس دورے کا مقصد ایک سائنسی لیکچر دینا تھا۔

اس تفتیش کار کے مطابق اس نے وہ خط بھی دیکھا ہے، جو محی الدین عیسیٰ نے ڈاکٹر خان کو لکھا تھا۔ اس خط میں پاکستانی حکومت سے خان لیبارٹریز کے دورے کا اہتمام کرنے کی درخواست کی گئی تھی۔ محی الدین عیسیٰ سے ان کا مؤقف جاننے کے لیے رابطہ نہیں ہو سکا ہے۔ انہوں نے بعد میں عرب انٹرنیشنل یونیورسٹی میں فیکلٹی آف سائنس کے ڈین کے طور پر بھی خدمات انجام دیں۔

سن 2007 میں شامی صدر بشار الاسد کا ایک آسٹریلوی ٹیلی وژن کو انٹرویو دیتے ہوئے کہنا تھا کہ انہیں ڈاکٹر خان کی طرف سے ایک خط ملا تھا تاہم ان کی حکومت نے اس کا کوئی جواب نہ دیتے ہوئے ڈاکٹر خان سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔

سابق تفتیش کار کے مطابق لیبیا کی حکومت نے آئی اے ای اے کے سامنے تسلیم کیا تھا کہ اس نے ڈاکٹر خان کو دس ہزار سینٹری فیوجز کا آرڈر دے رکھا تھا اور طرابلس کا جوہری پروگرام ڈاکٹر خان کے پلان کے مطابق تھا۔

اس تفتیش کار کا کہنا ہے کہ الحسکہ میں بنائے گئے پلانٹ کا ڈیزائن بھی ناقابل یقین حد تک لیبیا کے پلانٹ سے ملتا ہے، یہاں تک کہ گاڑیوں کی پارکنگ کا احاطہ بھی اسی طرز کا بنایا گیا ہے۔ شامی حکومت کی طرف سے اس رپورٹ پر ابھی تک کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا گیا۔

رپورٹ: امتیاز احمد / خبر رساں ادارے

ادارت: مقبول ملک

DW.COM