1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام امن مذاکرات کا آغاز آج ہی سے ہو گا، اقوام متحدہ پُر امید

خانہ جنگی کے شکار ملک شام میں قیام امن کے لیے مذاکرات کا آغاز آج جمعہ 29 جنوری کو ہونا ہے۔ اپوزیشن گروپوں کی شرکت کے حوالے سے غیر یقینی کے باوجود اقوام متحدہ نے امید ظاہر کی ہے کہ یہ مذاکرات آج ہی سے شروع ہو جائیں گے۔

سوئٹزر لینڈ کے شہر جنیوا میں ہونے والے ان مذاکرات کے لیے ابتدائی طور پر پیر 25 جنوری کی تاریخ طے کی گئی تھی تاہم اپوزیشن اقوام متحدہ کی نگرانی میں ہونے والے ان مذاکرات کے لیے اس بات پر اتفاق نہیں ہو پایا تھا کہ کونسے اپوزیشن گروپوں کو اس میں شرکت کی دعوت دی جائے۔ اسی باعث ان مذاکرات کے لیے آج 29 جنوری کی تاریخ طے کی گئی تھی۔ تاہم ابھی تک یہ بے یقینی قائم ہے کہ کون کون سے گروپ ان مذاکرات میں شرکت کریں گے۔

اقوام متحدہ کے ترجمان احمد فوازی کے مطابق، ’’میں امید کروں گا کہ (مذاکرات) آج سہ پہر میں شروع ہو جائیں گے۔‘‘ فوازی کا شرکاء کے حوالے سے مزید کہنا تھا، ’’میں یہ تو آپ کو نہیں بتا سکتا کہ کون اس میں شرکت کرے گا اور یہ کب اور کہاں ہوں گے۔‘‘

اسی دوران اقوام متحدہ کی طرف سے شام میں کے شہریوں کو درپیش مسائل اور مشکلات کے بارے میں بھی ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے جس کے مطابق 46 لاکھ شامی شہری ایسے علاقوں میں پھنسے ہوئے ہیں جہاں کسی قسم کی کوئی امداد نہیں پہنچ رہے۔ یہ ایسے علاقوں یا شہروں کے رہائشی ہیں جو حکومتی یا باغیوں کے محاصرے میں آئے ہوئے ہیں۔

شام میں 2011ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث اب تک 260,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں

شام میں 2011ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث اب تک 260,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں

جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں شرکت کے معاملے پر اپوزیشن کی نمائندگی کرنے والی ٹیم نے آج چوتھے روز بھی سعودی دارالحکومت ریاض میں ملاقات کی ہے۔ جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے مطابق اس ٹیم کی طرف سے ابھی تک ان مذاکرات میں شرکت کا فیصلہ نہیں کیا گیا۔ شام کی مرکزی اپوزیشن نے کہا ہے کہ وہ اُس وقت تک مذاکرات میں شریک نہیں ہو گی جب تک محاصرے میں آئے ہوئے شہروں تک امداد پہنچنے سے متعلق معاہدہ نہیں ہو جاتا۔ اقوام متحدہ کی طرف سے شام کے لیے نمائندہ خصوصی اسٹیفان ڈے مِستورا نے شامی عوام کے لیے اپنے ایک ویڈیو پیغام میں کہا ہے کہ یہ مذاکرات شام میں قیام امن کے لیے آخری موقع ہو سکتے ہیں۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق امن مذاکرات میں شرکت کے لیے شامی حکومت کا نمائندہ وفد جنیوا پہنچ گیا ہے۔ شامی حکومت کے ایک قریبی ذریعے نے اے ایف پی کو بتایا، ’’حکومت وفد، جس کی سربراہی اقوام متحدہ میں شامی سفیر بشار الجعفری کر رہے ہیں، جنیوا پہنچ چکا ہے۔‘‘

شام میں 2011ء میں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے باعث اب تک 260,000 سے زائد افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں جبکہ کئی ملین افراد ہجرت پر مجبور ہوئے۔ یورپ کا رُخ کرنے والے زیادہ تر مہاجرین کا تعلق بھی شام ہی سے ہے۔