1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شام: اسلامک اسٹیٹ کی پیش قدمی، فرانسیسی فضائی حملوں کا آغاز

شمالی شام میں اسلامک اسٹیٹ کی بڑی پیش قدمی کے بعد فرانس کی جانب سے اعلان کیا گیا ہے کہ وہ شام میں اس شدت پسند تنظیم کے خلاف فضائی کارروائیوں میں شریک ہو جائے گا۔

فرانس کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے، جب آج بدھ کے روز ہی آسٹریلوی طیاروں نے پہلی مرتبہ شام میں اسلامک اسٹیٹ کے عسکریت پسندوں کے ٹھکانوں کو نشانہ بنانے کا سلسلہ شروع کیا۔ اس دہشت گرد تنظیم کے خلاف گزشتہ برس امریکی قیادت میں ایک بین الاقوامی اتحاد کا قیام عمل میں آیا تھا، تاہم آسٹریلیا اور فرانس صرف شمالی عراق ہی میں اسلامک اسٹیٹ کے ٹھکانوں کو نشانہ بنا رہے تھے۔

گزشتہ ماہ اسلامک اسٹیٹ نے شمالی شامی شہر حلب کی جانب پیش قدمی کا آغاز کیا تھا۔ اس علاقے میں بشارالاسد کی حامی فورسز کے خلاف لڑنے والے باغی موجود ہیں، تاہم اسلامک اسٹیٹ کی پیش قدمی ان باغیوں کے لیے بڑھا دھچکا تھی۔

فرانسیسی وزیردفاع Jean-Yves Le Drian نے ایک  ملکی ریڈیو سے بات چیت میں کہا کہ شام میں فضائی حملوں کے فیصلے کی وجہ یہاں اسلامک اسٹیٹ کا تیزی سے پھیلاؤ ہے۔

Islamischer Staat Terrormiliz IS

اسلامک اسٹیٹ شام کے متعدد علاقوں کی جانب پیش قدمی کر رہی ہے

انہوں نے کہا کہ حالیہ کچھ ماہ میں اسلامک اسٹیٹ شمالی شام میں تیزی سے آگے بڑھ رہی ہے اور اسے روکنے کے لیے مناسب اقدامات کی ضرورت ہے۔

حلب شام میں خانہ جنگی سے قبل ملک کا دوسرا سب سے بڑا شہر تھا، تاہم اب اس علاقے میں ہر جگہ تباہ حال عمارتیں اور ٹوٹی ہوئی سڑکیں ہی نظر آتی ہیں۔ یہ علاقہ ایک طویل عرصے سے حکومتی فورسز اور باغیوں کے درمیان میدان جنگ بنا ہوا ہے۔

دوسری جانب آسٹریلیا نے بھی شام میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف فضائی حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ آسٹریلیا اس سے قبل اس شدت پسند تنظیم کے خلاف صرف عراق میں حملوں میں مصروف تھا، تاہم گزشتہ ہفتے کینبرا حکومت نے شام میں بھی اس شدت پسند تنظیم کو ہدف بنانے کا اعلان کیا تھا۔

دریں اثناء جرمنی نے ایک مرتبہ پھر حکومتی موقف واضح کرتے ہوئے کہا ہے کہ برلن حکومت شام میں غیرملکی زمینی افواج بھیجنے کی مخالفت کرتی ہے۔ جرمن وزیردفاع اُرزولا فان ڈیئر لائن نے بدھ کے روز کہا کہ اگر شام میں کوئی زمینی فوج بھیجتا ہے، تو وہاں وہ صرف انہیں ہی ہلاک کرے گا، جنہیں ہلاک نہیں کیا جانا چاہیے۔

واضح رہے کہ جرمنی شام کے مسئلے کے سفارتی حل پر زور دیتا ہے۔ جرمنی امریکی قیادت میں اسلامک اسٹیٹ کے خلاف بننے والے بین الاقوامی اتحاد میں بھی شامل نہیں ہے، جو عراق اور شام میں اس شدت پسند تنظیم کے خلاف فضائی کارروائیوں میں مصروف ہے۔