شامی کُردوں نے ترک مطالبات مسترد کر دیے | حالات حاضرہ | DW | 14.02.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی کُردوں نے ترک مطالبات مسترد کر دیے

شامی کُردوں نے ترک سرحد سے متصل علاقوں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کرتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ ترک عسکری مداخلت پر شامی بھرپور طریقے سے جواب دیں گے۔ ترک فورسز نے ان علاقوں میں اتوار کے دن بھی شیلنگ کی ہے۔

Syrien YPG Kurden Kämpfer ARCHIV

شامی کُردوں نے ترک سرحد سے متصل علاقوں سے پیچھے ہٹنے سے انکار کر دیا ہے

شامی کُرد PYD پارٹی نے اتوار کے دن انقرہ حکومت کے ایسے مطالبات مسترد کر دیے ہیں کہ کرد اتحادی فائٹرز سرحدی علاقوں سے پیچھے ہٹ جائیں۔ ترک فورسز نے ان علاقوں میں آج مسلسل دوسرے روز بھی شیلنگ کا سلسلہ جاری رکھا، جس کی وجہ سے کم ازکم دو افراد کی ہلاکت کا بتایا گیا ہے۔

DW.COM

انقرہ حکومت نے کہا ہے کہ ترک سرحدی علاقوں کے قریب قبضہ کرنے والے ’جنگجو‘ واپس لوٹ جائیں، ورنہ ان کے خلاف عسکری کارروائی جاری رہے گی۔ تاہم کُرد پارٹی کے شریک چیئرمین صالح مسلم نے چودہ فروری کو روئٹرز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ترکی کو شام کے اندورنی معاملات میں مداخلت نہیں کرنا چاہیے۔

صالح کے بقول ایک ہفتہ قبل تک شمالی حلب میں واقع ايک ایئر بیس القاعدہ سے منسلک النصرہ فرنٹ کے کنٹرول میں تھا۔ انہوں نے کہا کہ کُرد اتحادی فائٹرز نے وہاں سے ان جہادیوں کو پسپا کیا تو ترک فوج نے اس بیس پر شیلنگ شروع کر دی، ’’کیا وہ (ترک حکام) چاہتے ہیں کہ یہ بیس النصرہ کے قبضے میں ہی رہے؟ یا وہ یہ چاہتے ہیں کہ شامی فورسز اسے بازیاب کرا کے وہیں موجود رہیں؟‘‘

صالح نے کہا کہ جس عسکری اتحاد نے شمالی حلب میں واقع اس ایئر بیس کو بازیاب کرایا، اس میں PYD کی اتحادی ’شامی جمہوری فورسز‘ کے علاوہ عرب، ترکمان اور YPG ملیشیا کے فائٹرز بھی شامل ہیں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ترکی نے شام کے داخلی معاملات میں دراندازی کی تو تمام شامی متحد ہو کر اس کا جواب دیں گے۔

یہ امر اہم ہے کہ YPG شامی تنازعے کے شروع ہونے کے بعد سے شمالی شام کے وسیع تر علاقوں میں فعال ہو چکی ہے جبکہ اسے امریکا کی مکمل حمایت بھی حاصل ہے۔ انتہا پسند گروپ داعش کے خلاف جاری عالمی کارروائیوں میں یہ ملیشیا اہم کردار بھی ادا کر رہی ہے۔

Syrien YPG Kurden Kämpfer ARCHIV

واشنگٹن حکومت نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ شام میں کرد فائٹرز اور دمشق حکومت کی حامی فورسز کے خلاف کارروائی کو ترک کر دے

تاہم ترکی کا کہنا ہے کہ یہ کالعدم ’کردستان ورکرز پارٹی‘ کا ہی حصہ ہے، جو جنوب مشرقی ترکی میں گزشتہ تین دہائیوں سے علیحدگی پسندی کی مسلح تحریک چلا رہی ہے۔

دوسری طرف واشنگٹن حکومت نے ترکی سے کہا ہے کہ وہ شام میں کرد فائٹرز اور دمشق حکومت کی حامی فورسز کے خلاف کارروائی کو ترک کر دے۔

امریکی اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے ترجمان جان کربی نے کہا ہے کہ شمالی حلب میں تناؤ کو کم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں اور اگر ترکی عسکری مداخلت کرتا ہے تو یہ کوششیں ضائع ہو سکتی ہیں۔ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ترک فورسز نے شامی فوج کے خلاف بھی شیلنگ کی ہے۔