1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی کریک ڈاؤن پر مغرب کی تنقید اور اسد حکومت کا واویلا

مغربی اقوام شامی حکومت کی اس پالیسی کے خلاف پابندیوں کے عمل کو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اسد حکومت نے مغربی اقوام کی جانب سے کریک ڈاؤن کی مذمت کو اپنے ملک میں مداخلت اور افراتفری پھیلانے سے تعبیر کیا ہے۔

default

ولید المعلم

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شام کے وزیر خارجہ ولید المعلم نے مغربی ملکوں کی جانب سے ان کے ملک میں جاری کریک ڈاؤن کی پالیسی پر تنقید کو مداخلت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اقوام ان کے ملک میں افراتفری پھیلا کر اس کو دو لخت کرنے کی خواہش رکھتی ہیں۔ شامی وزیر خارجہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ مغربی طاقتیں ان کے ملک میں مداخلت کا جواز ڈھونڈ رہی ہیں۔ ولید المعلم کے مطابق ان کے ملک کے مختلف مذہبی گروہوں کی مالی معاونت کے علاوہ انہیں اسلحے کی فراہمی اور اشتعال دلانے کا عمل جاری ہے۔

Westerwelle Vollversammlung der Vereinten Nationen

گیڈو ویسٹر ویلے جنرل اسمبلی میں

جنرل اسمبلی سے خطاب کرتے ہوئے جرمن وزیر خارجہ گیڈو ویسٹر ویلے کا کہنا تھا کہ شام کے بہادر مرد اور خواتین کے ساتھ وہ اظہار یک جہتی کرتے ہیں جو صدر بشار الاسد کے ظالمانہ کریک ڈاؤن کا مقابلہ کر رہے ہیں۔ ویسٹر ویلے نے اسد حکومت کی جابرانہ پالیسیوں کی مذمت بھی کی۔ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں چین کے وزیر خارجہ Yang Jiechi نے بھی شام میں حکومتی کریک ڈاؤن کی پالیسی پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ چینی وزیر خارجہ نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ شام کی صورت حال کا دانشمندی سے جائزہ لے کر اسے حل کرنے کی کوشش کرے تا کہ شام میں مزید انتشار کو روکا جا سکے جو اب علاقائی امن کے لیے خطرہ بن رہا ہے۔

Yang Jiechi Außenminister China

چینی وزیر خارجہ یانگ ژیچی

دوسری جانب شام کی اندرونی صورت حال پر نگاہ رکھنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ حکومتی فوج نے ان چار فوجیوں کو گولیاں مار کر ہلاک کردیا ہے جو کریک ڈاؤن کی پالیسی کے خلاف اپنی وردیاں پھینک چکےتھے۔ ان فوجیوں کو ادلِب کے علاقے معار شمسہ میں ہلاک کیا گیا۔ وسطی شامی علاقے کے شہر راستان میں بھی فوج نے ٹینکوں کی مدد سے فوج چھوڑنے والوں کے خلاف کارروائی کی۔ شام کے کئی علاقوں میں باغی فوجیوں نے سرکاری فوج کے قافلوں پر حملوں کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔ شامی فوج اب شہروں کے ساتھ ساتھ بڑے شہروں کے قریبی دیہات تک پہنچنا شروع ہو گئی ہے۔ اس سلسلے میں حمص کے قریبی دیہات میں ایک درجن سے زائد افراد کو ہلاک کیا گیا۔ اس کے علاوہ پندرہ افراد کو خفیہ ادارے اپنے ساتھ لے گئے ہیں اور ان کا کوئی اتہ پتہ معلوم نہیں ہے۔ اسی طرح ادلِب کے دیہات میں بھی فوج نے ایک درجن سے زائد گرفتاریاں کی ہیں۔

رپورٹ:  عابد حسین

ادارت:  حماد کیانی

 

DW.COM

ویب لنکس