1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی کردوں کے زیر قبضہ علاقوں میں وفاقی نظام کا اعلان متوقع

شمالی شام میں کردوں کے زیر قبضہ علاقوں میں عنقریب ہی وفاقی نظام حکومت کا اعلان متوقع ہے۔ ان کردوں کی طرف سے اس طرح معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے سے شامی تنازعے اور جنیوا مذاکرات پر واضح اثرات مرتب ہوں گے۔

Syrien YPG Kämpfer

شامی کرد فائٹرز اسد حکومت اور اس کے حامی ملیشیا گروپوں کے خلاف اپنی عسکری جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں

نیوز ایجنسی روئٹرز کی بدھ سولہ مارچ کو ملنے والی رپورٹوں کے مطابق یہ بات شامی کردوں کے نمائندہ ایک اعلیٰ اہلکار کی طرف سے بتائی گئی۔ اس اہلکار نے بتایا کہ شمالی شام کے کردوں کے زیر کنٹرول علاقوں کے لیے ایک فیڈرل سسٹم کا اعلان بس ہونے ہی والا ہے۔

اس اہلکار نے روئٹرز کو بتایا کہ کئی سالوں سے خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے شمال میں یہ کرد اس لیے معاملات اپنے ہاتھوں میں لینے پر مجبور ہو گئے ہیں کہ انہیں مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں جاری خونریز تنازعے کے حل کے لیے جنیوا میں ہونے والی بات چیت سے باہر رکھا گیا ہے۔

اس اقدام کے تحت شام کے شمال میں کردوں کے زیر قبضہ تین ایسے علاقوں کو ملا کر ایک وفاقی نظام حکومت متعارف کرانے کی کوشش کی جائے گی، جس پر روئٹرز کے مطابق ترکی میں خطرے کی گھنٹیاں بجنا ایک لازمی سی بات ہو گی۔

ترکی کو خدشہ ہے کہ اس کے ہمسایہ ملک شام میں وہ علاقے جن کا انتظام شامی کردوں کے پاس ہے، وہاں اس طرح کا کوئی وفاقی نظام متعارف کرائے جانے سے خود ترکی میں کرد نسل کی اقلیت میں علیحدگی پسندی کے جذبات کو تقویت ملے گی۔

اس سلسلے میں آج بدھ سولہ مارچ کے روز شمالی شام میں کردوں کے زیر انتظام مائلان نامی چھوٹے سے شہر میں ایک ایسی کانفرنس بھی جاری تھی، جس میں ’ڈیموکریٹک فیڈرل سسٹم آف روجاوا‘ کے بارے میں بحث کی جا رہی تھی۔ ’روجاوا‘ کرد زبان میں شمالی شام کو کہتے ہیں۔

اس کانفرنس میں شریک مندوبین میں سے بڑی تعداد کا تعلق PYD سے تھا، جو شامی کردوں کی نمائندہ ایک اہم سیاسی جماعت ہے۔ مائلان میں اس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کئی مندوبین نے خبردار کیا کہ جنیوا میں اسی ہفتے شامی تنازعے سے متعلق جو امن مذاکرات شروع ہوئے ہیں، ان کے لیے بنیادی کوششیں تو اقوام متحدہ کی طرف سے کی جا رہی تھیں، لیکن شامی کردوں کی جماعت ’پی وائی ڈی کی شرکت کے بغیر یہ مذاکرات ناکام رہیں گے‘۔

شمالی شام میں مائلان کے شہر میں اس کانفرنس کے منتظمین میں سے ایک اور شامی کردوں کے نمائندہ ایک اہم رہنما آلدار خلیل نے روئٹرز کو بتایا، ’’ہم توقع کرتے ہیں کہ اس کانفرنس میں شرکاء ایک نئے نظام کی حمایت کر دیں گے۔‘‘ آلدار خلیل نے کہا کہ شامی کرد علاقوں کے لیے ’ڈیموکریٹک فیڈرل ازم‘ ہی سب سے بہترین نظام ہے۔

اسی دوران اس کانفرنس میں شریک ایک اور شامی کرد اہلکار ادریس نسّان نے روئٹرز کو بتایا، ’’اس کانفرنس میں عنقریب ہی ایک وفاقی حکومتی نظام کا اعلان متوقع ہے۔‘‘

روئٹرز نے لکھا ہے کہ شمالی شام میں کردوں کو شامی ترک سرحد کے ساتھ ساتھ قریب 400 کلومیٹر طویل جغرافیائی پٹی پر کنٹرول حاصل ہے اور یہ علاقہ عراق کے ساتھ سرحد پر دریائے فرات کے قریب اس خطے تک پھیلا ہوا ہے، جہاں عراقی کردوں کو 1990 کے عشرے سے خود مختاری حاصل ہے۔ شام اور عراق کے علاوہ کرد نسل کی اقلیت ترکی اور ایران میں بھی آباد ہے۔

DW.COM