1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی پناہ گزینوں کی کینیڈا آمد، وزیراعظم نے استقبال کیا

جمعرات کی شب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک سو تریسٹھ شامی مہاجرین کا استقبال کیا جنہیں کینیڈا کے فوجی طیارے کے ذریعے اردن سے ٹورونٹو لایا گیا ہے۔

جمعرات کی شب کینیڈا کے وزیراعظم جسٹن ٹروڈو نے ایک سو تریسٹھ شامی مہاجرین کا استقبال کیا جنہیں کینیڈا کے فوجی طیارے کے ذریعے اردن سے ٹورونٹو لایا گیا ہے۔

ایئرپورٹ پر شامی مہاجرین کا استقبال کرتے ہوئے کینیڈا کے وزیراعظم نے کہا، ’’یہ ایک اہم موقع ہے جب ہم ایسے لوگوں کا خیر مقدم کر رہے ہیں، جو انتہائی مشکل حالات سے آئے ہیں۔ ہم دنیا کو بھی دکھا سکتے ہیں کہ ہمارے دل کتنے کشادہ ہیں۔‘‘ ٹروڈو نےکینیڈا میں اکتوبر میں ہونے والے عام انتخابات میں اکثریتی ووٹوں سے کامیابی حاصل کی تھی۔ انہوں نے سابقہ قدامت پسند حکومت سے مختلف نکتہ نظر اپناتے ہوئے شامی مہاجرین کو ملک میں قبول کرنے کا وعدہ کیا تھا۔

کینیڈا کا دوسرا فوجی جہاز مزید شامی پناہ گزینوں کو ہفتے کے روز مونٹریال لے کر آئے گا۔ کینیڈا کی حکومت اس سال کے آخر تک 10 ہزار اور آئندہ برس فروری کے آخر تک مزید 15 ہزار پناہ گزینوں کی دوبارہ آبادکاری کرے گی۔ واضح رہے کہ ٹروڈو کی آزاد خیال حکومت نے اس سال کے آخر تک وعدے کے مطابق 25 ہزار مہاجرین کو ملک میں لانا تھا لیکن پیرس حملوں کے بعد سکیورٹی چیک سخت کر دیا گیا ہے، جس کی وجہ سے اتنے کم عرصے میں اتنی بڑی تعداد کو ملک لانا ممکن نہیں ہے۔

ایسے شامی پناہ گزینوں کی بھی کینیڈا میں کمرشل جہازوں کے ذریعے آمد کا سلسلہ جاری ہے جن کی نجی طور پر کفالت کی جائے گی۔ ابراہم فیسٹیول ایک گروپ ہے، جو ایک ماں اور اس کے تین بچوں کا کفیل ہے۔ اس گروپ کی ایک رکن خاتون، سریا داسر نے نیوز ایجنسی روئٹرز کو بتایا، ’’یہ پناہ گزین کینیڈا پہنچنے پر خوش اور پر امید ہیں۔‘‘

شامی مہاجرین کی آمد پر ملک کے سب سے بڑے اخبار ٹورنٹو سٹار نے ’کینیڈا میں خوش آمدید‘ کی سرخی، اور کینیڈا کے موسم، آئس ہاکی اور زبان سے متعلق معلومات اپنے سرورق پر انگریزی اور عربی زبان میں شائع کی جبکہ ٹورونٹو کے ناظم نے ٹویٹ کے ذریعے شامی پناہ گزینوں کو خوش آمدید کہا۔

کینیڈا میں شامی پناہ گزینوں کا خیر مقدم اس کے ہمسایہ ملک امریکا کے برعکس رہا، جہاں پیرس حملوں کے بعد ان کے امریکا داخلے کی مخالفت کی گئی اور کچھ امریکی گورنروں نے کہا کہ وہ شامی مہاجرین کو اپنے ریاست میں قبول نہیں کریں گے۔

DW.COM