1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی پناہ گزينوں کی ايک غير متوقع منزل سوڈان

اپنے ملک ميں قريب چار سال سے جاری خانہ جنگی سے تھک ہار کر کئی شامی مہاجرین غير متوقع طور پر اب افريقی ملک سوڈان ميں پناہ لے رہے ہيں۔

پچاس سالہ اُمِ محمد حلب کی رہنے والی ہیں، ليکن اِن دنوں سوڈانی دارالحکومت خرطوم ميں ايک باورچی کے طور پر ملازمت کر کے اپنے جيسے ديگر شامی پناہ گزينوں کا پيٹ بھرتی ہے۔ وہ ديگر چوبيس لوگوں کے ہمراہ ايک ايسے منصوبے کا حصہ ہیں، جس کے تحت سن 2011 سے اب تک خرطوم پہنچنے والے شامی تارکين وطن کے ليے کھانا پکايا جاتا ہے۔

اقوام متحدہ کے مطابق اگرچہ شام سے پناہ کے ليے نقل مکانی کرنے والے اکثريتی افراد کی ترجيح يورپ پہنچنا ہوتی ہے، تاہم دونوں ملکوں ميں زبان اور ملتی جھلتی ثقافت بہت سے شامی شہريوں کے ليے سوڈان جانے کا سبب بنتی ہے۔ سوڈان ميں اقتصادی لحاظ سے حالات زيادہ سازگار نہيں اور خانہ جنگی کے سبب لاکھوں مقامی افراد بھی نقل مکانی کر چکے ہيں۔ اِسی وجہ سے يہ ملک پناہ کے ليے اولين ترجيح نہيں۔

اُمِ محمد وہ دن ياد کرتی ہیں، جب اُس نے شام چھوڑنے کا فيصلہ کيا، ’’صبح کے وقت ہم نے بمباری کی آواز سنی۔ ميرا پچيس سالہ بيٹا اپنے بستر پر سو رہا تھا کہ ايک شيل آن گرا۔‘‘ وہ بتاتی ہیں کہ دھماکے کی شدت سے آس پاس کے مکانات کے شيشے ٹوٹ گئے اور اُن کا بيٹا شديد زخمی ہو گیا۔ اس واقعے کے بعد ام محمد اردن جانا چاہتی تھیں، جہاں لاکھوں شامی پناہ گزين اب بھی موجود ہيں۔ تاہم ان کے بڑے بيٹے، جو ملازمت کے سلسلے ميں سوڈان گئے ہوئے تھے، نے انہیں بتايا کہ سوڈان جانے کے ليے شامی شہريوں کو ويزا درکار نہیں ہے۔ ام محمد نے اسی وقت اپنے اور اپنے چار بيٹوں کے ٹکٹ کرائے اور سوڈان چلی گئیں۔ تب ہی سے وہ خرطوم ميں کھانا پکانے کا کام کر رہی ہیں۔

حاوا کچن نامی اس منصوبے کو گزشتہ برس نومبر ميں شامی مہاجرين کی امداد کے ليے بنائی جانے والی ايک کميٹی کی مدد سے شروع کيا گيا تھا۔ اندازوں کے مطابق شام ميں 2011ء ميں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک قريب چاليس تا پينتاليس ہزار شامی پناہ کے ليے سوڈان پہنچ چکے ہيں۔ شامی مہاجرين کی مدد کے ليے بنائی جانے والی کميٹی کے سربراہ مازن سميع بتاتے ہيں کہ ان کے خيال ميں سوڈان پناہ کے ليے کوئی بہترين منزل نہيں۔ تاہم ان کا کہنا ہے، ’’اگر کوئی شخص بمباری کا شکار ہے اور اسے راکٹوں اور گوليوں کا خطرہ ہے اور ايسے کسی شخص کو فرار ہونے کا جو بھی موقع ملے، وہ اس سے فائدہ اٹھائے گا۔‘‘

2011ء ميں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک قريب چاليس تا پينتاليس ہزار شامی پناہ کے ليے سوڈان پہنچ چکے ہيں

2011ء ميں شروع ہونے والی خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک قريب چاليس تا پينتاليس ہزار شامی پناہ کے ليے سوڈان پہنچ چکے ہيں

اس کميٹی کا قيام 2012ء ميں ہوا تھا۔ سميع بتاتے ہيں کہ اس وقت صرف بيس شامی خاندان تھے ليکن شامی جنگ ميں مسلسل بدتری کے سبب يہ تعداد بڑھتی ہی جا رہی ہے اور اب قريب پانچ سو شامی خاندان سوڈان ميں مقيم ہيں۔

اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين UNHCR کی سوڈانی شاخ کی نائب سربراہ انجيلا ڈی روسی بتاتی ہيں کہ يورپ کے بدلے سوڈان آنے والے شامی پناہ گزين زبان اور ثقافت کی وجہ سے يہ فيصلہ کر رہے ہيں۔ ان کے بقول دنوں ملکوں ميں ايک زبان بولی اور سمجھی جا سکتی ہے۔ اس کے علاوہ سوڈان ميں شامی شہريوں کو پناہ گزين نہيں سمجھا جاتا بلکہ انہيں تعليم اور صحت سے متعلق بنيادی سہوليات ملکی شہريوں ہی کی طرح دستياب ہيں۔

ملتے جلتے مندرجات