1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی پارلیمان کے رکن کا داعش کے ساتھ مبینہ کاروبار

شام کے صدر کی حامی پارلیمنٹ کے ایک رکن نے جہادی تنظ‌یم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ کئی برسوں کاروباری تعلق استوار رکھا۔ یہ رکن پارلیمنٹ جہادیوں سے مسلسل گندم خریدنے کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔

نیوز ایجنسی روئٹرز سے بات کرتے ہوئے عراقی صوبے الرقہ کے پانچ کسانوں اور جہادی انتظامیہ کے دو اہلکاروں نے تصدیق کی ہے کہ وہ شامی پارلیمنٹ کے رکن حسام الکترجی کے ساتھ کاروبار کرتے رہے ہیں۔ الکترجی تقریباً چھ برسوں تک ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیر قبضہ علاقوں سے گندم خریدتے رہے ہیں اور یہ گندم دارالحکومت دمشق تک لائی جاتی تھی۔ بتایا گیا ہے کہ اس انتظام کے تحت شامی حکومت اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں لوگوں کو خوراک فراہم کرتی رہی ہے۔

شامی باغیوں کا ترک فوج پر حملہ

اسرائیلی وزیر دفاع نے شامی صدر اسد کو ’فتح مند‘ قرار دے دیا

شام میں تازہ حملے، اٹھائیس شہری مارے گئے

شام میں قیام امن کی کوشش، روسی اور ترک صدور کی ملاقات

دمشق میں حسام الکترجی کے دفتری اہلکار محمد کسب نے بھی تصدیق کی ہے کہ الکترجی گروپ نے حکومت کے زیر کنٹرول علاقوں میں اُس گندم کی خرید کی تھی، جو جہادی تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے زیر قبضہ علاقوں میں کاشت کی جاتی تھی۔ کسب نے البتہ دہشت گرد تنظیم داعش یا اسلامک اسٹیٹ کے ساتھ کسی بھی قسم کے دوسرے تعلق یا رابطے کی تردید کی ہے۔

نیوز ایجنسی اس امر کی تصدیق نہیں کر سکی ہے کہ داعش اور الکتر جی کے درمیان کاروباری تعلق کے حوالے سے صدر بشار الاسد کس حد تک آگاہی رکھتے تھے۔

تجزیہ کاروں نے حسام الکترجی کے ’اسلامک اسٹیٹ‘ کے ساتھ گندم کے کاروبار پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایک طرف تو شامی صدر بشار الاسد مغربی اقوام پر الزام عائد کرتے ہیں کہ انہوں نے اس جہادی تنظیم کی اسمگلنگ کی سرگرمیوں پر آنکھ بند رکھی ہوئی ہے تو دوسری جانب اُن کی حامی و حلیف پارلیمنٹ کا ایک رکن خاموشی کے ساتھ جہادی تنظیم کی قائم کردہ انتظامیہ اور کسانوں کے ساتھ کاروبار کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھا۔

دیگر چند مبصرین کے مطابق ایران نواز شامی حکومت کے ایک اہم شخصیت کے سخت سنی عقیدے کی جہادی تنظیم کے ساتھ کاروباری قربت حیران کن اور دو رخی حکومتی پالیسی کی عکاسی کرتی ہے۔

نیوز ایجنسی روئٹرز نے حسام الکترجی کے دفتر سے کم از کھ چھ مرتبہ رابطہ کیا تھا مگر اس کاروبار پر کوئی بڑا ردعمل نہیں دیا گیا۔ کافی تگ و دو کے بعد اُن کے دفتر کے مینیجر محمد کسب نے اس کاروباری سرگرمی کی تصدیق کی۔

انہوں نے یہ ضرور کہا کہ یہ انتہائی مشکل حالات میں کیا جانے والا کام تھا۔ کسب نے اس سے زیادہ تفصیل فراہم کرنے سے گریز کیا۔

ویڈیو دیکھیے 01:56

حلب کو ’مکمل تباہی‘ سے بچانے کی کوشش

DW.COM

Audios and videos on the topic