1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی پارلیمانی الیکشن، اسد کی پارٹی اور اتحادی کامیاب

گزشتہ ہفتے کے دوران شام میں کرائے گئے پارلیمانی الیکشن صدر بشار الاسد کی پارٹی جیت گئی ہے۔ اسد کی سیاسی جماعت بعث پارٹی کو بھاری اکثریت حاصل ہوئی ہے۔

شام میں گزشتہ ہفتے تیرہ اپریل کو ہونے والے پارلیمانی انتخابات میں صدر بشار الاسد کی بعث پارٹی  اور اُس کے اتحادیوں کو واضح اور بھاری اکثریت حاصل ہوئی ہے۔ حکومت کے زیرقبضہ علاقوں میں منعقدہ ان الیکشن سے قبل ہی بعث پارٹی کی بھاری فتح کی توقع کی جا رہی تھی، کیوں کہ اسد حکومت کی مخالف جماعتوں نے ان انتخابات کے بائیکاٹ کا اعلان کیا تھا۔ گزشتہ برس بشار الاسد نے حکومتی نگرانی کے علاقوں میں صدارتی الیکشن کا انعقاد کر کے ایک اور مدت کے لیے منصب صدارت اپنے نام کر لیا تھا۔

 اقوام متحدہ کی جانب سے اِس انتخابی عمل کے حوالے سے کہا گیا تھا کہ ان انتخابات کے نتائج کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔ گزشتہ برس کے صدارتی الیکشن کو بھی عالمی برادری اور اقوام متحدہ نے تسلیم نہیں کیا تھا۔ اِس کی بڑی وجہ شام کے بیشتر علاقوں میں خانہ جنگی کی صورت حال ہے۔ اس کے علاوہ کئی علاقوں پر اسد حکومت کی مخالف قوتیں قابض ہیں اور لاکھوں شامی ہمسایہ ملکوں اردن، ترکی اور مصر میں قائم مہاجر کیمپوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔ شام میں امن و سلامتی قائم کرنے کے لیے عالمی طاقتیں امن مذاکرات کے سلسلے کو آگے بڑھائے ہوئے ہیں۔

Syrien Parlamentswahlen - Stimmabgabe Baschar al-Assad

بشار الاسد تیرہ اپریل کو ووٹ ڈالتے ہوئے

شامی الیکشن کمیشن کی جانب سے بتایا گیا ہے کہ ان انتخابات میں پانچ ملین ووٹروں نے اپنا حق رائے دہی استعمال کیا۔ الیکشن کمیشن کے سربراہ ہشام الشعار کے مطابق حکمران بعث پارٹی کے اتحادی گروپ نیشنل یونٹی کو ڈالے گئے ووٹوں کے مطابق  250 رکنی پارلیمنٹ میں اُسے 200 سیٹیں حاصل ہوئی ہیں۔ متناسب نمائندگی کےتحت ہونے والے الیکشن سے قبل انتخابی اتحاد کی جانب سے فراہم کردہ فہرست کے تمام افراد اب پارلیمنٹ کے رکن منتخب ہو گئے ہیں۔ پارلیمانی الیکشن کے لیے گیارہ ہزار 341 امیدواروں نے کاغذات جمع کروائے تھے۔

شام میں حکومت مخالف مسلح تحریک کے شروع ہونے کے بعد یہ دوسرے پارلیمانی انتخابات ہیں۔ شامی تنازعے کی زد میں آ کر دو لاکھ ستر ہزار انسان مارے جا چکے ہیں۔ ملکی اقتصادیات کا ڈھانچہ تقریباً تباہ ہو چکا ہے۔ اِس کے ساتھ ساتھ ایک بڑے علاقے پر دہشت گرد و عسکریت پسند تنظیم ’اسلامک اسٹیٹ‘ قابض ہے اور اِس نے شامی شہر الرقہ کو اپنی خود ساختہ خلافت کا دارالخلافہ قرار دے رکھا ہے۔ شامی حکومت اور مرکزی اپوزیشن گروپ جنیوا میں اقوام متحدہ کی زیرنگرانی امن مذاکرات میں شریک ہیں۔ شام کے لیے مقرر اقوام متحدہ کے ایلچی اسٹیفان ڈے مِستورا واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ شام کے لیے ایک نئے دستور کے ساتھ ساتھ عام پارلیمانی و صدارتی الیکشن اگلے اٹھارہ ماہ کے دوران اقوام متحدہ کی نگرانی میں کرائیں جائیں گے۔