1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجر مصور کے فن پاروں کی یونان میں نیلامی

دمشق اسکول آف فائن آرٹس سے فارغ التحصیل شامی مہاجر کے بنائے دو فن پاروں کی یونان میں نیلامی ہوئی ہے۔ یہ آرٹسٹ جنگ زدہ شامی شہر تدمیر سے ہجرت کے بعد یونان اور مقدونیہ کی سرحدی گزرگاہ اڈومینی کے مہاجر کیمپ میں مقیم ہے۔

Screenshot myroauctions.gr (myroauctions.gr)

اِس شامی مہاجر مصور کی دو پینٹنگز دو سو ستر یورو میں فروخت ہوئی ہیں

حسن خطیب نامی اس مصّور نے اپنے خاندان کی کفالت کی غرض سے اپنی کچھ پینٹنگز پیچنے کا فیصلہ کیا تھا۔ خطیب کا خاندان ایتھنز میں اپنی فن لینڈ منتقلی کی درخواست کی منظوری کا انتظار کر رہا ہے۔ اِس شامی مہاجر مصور کی دو پینٹنگز دو سو ستر یورو میں فروخت ہوئی ہیں اور مزید ابھی فروخت ہونا باقی ہیں۔

یونانی شمالی شہر تھیسالونیکی میں ایک انٹیک ہاؤس کے مالک اسٹاوروس  میرونیڈیس نے بتایا،’’بہت سے لوگ مسٹر خطیب کی بنائی تصاویر کے بارے میں پوچھ رہے ہیں اور ہم مزید پانچ پینٹنگز کی نیلامی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔‘‘ میرونیڈیس نے مزید کہا کہ وہ خطیب کی مدد کرنا چاہتے ہیں۔

خطیب نے اپنے فن کا آغاز اس سال کے اوائل سے اُس وقت کیا تھا جب اسے اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ اڈومینی کے مہاجر کیمپ میں رہائش اختیار کرنی پڑی۔ مہاجرین کے لیے مقدونیہ کی سرحد بند ہونے کے بعد عام حالات میں پر سکون رہنے والا یونانی ریلوے پوسٹ کا علاقہ اب وسیع و عریض خیمہ بستی میں تبدیل ہو چکا ہے۔

Griechenland Flüchtlingslager Nea Kavala nahe Polikastro (picture alliance/NurPhoto/N. Economou)

خطیب کو اپنی بیوی اور چار بچوں کے ساتھ اڈومینی کے مہاجر کیمپ میں رہائش اختیار کرنی پڑی

خطیب نے ایتھنز نیوز ایجنسی سے بات کرتے ہوئے کہا،’’میں نے غم اور مایوسی کے خلاف رنگوں کے ذریعے لڑائی لڑ نے کا فیصلہ کیا۔‘‘ خطیب کا مزید کہنا تھا،’’ہم نے جنگ اور قتلِ عام سے بچنے کے لیے شام سے ہجرت کی تھی لیکن ہم سرحد پر پھنس کر رہ گئے ہیں۔‘‘ قریب کے گاؤں کا ایک جوڑا خطیب اور اس کے خاندان کو اپنے ساتھ لے گیا تھا اور اب اس کا خاندان اپنی منتقلی کے لیے زیرِ التواء درخواست کی منظوری کا ایتھنز میں انتظار کر رہا ہے۔

میرونیڈیس کا کہنا ہے، ’’خطیب کوئی تین ہفتے قبل اپنے کچھ یونانی دوستوں کے ساتھ میرے اسٹور پر آیا تھا۔ وہ انگریزی نہیں جانتا۔ اُس کی چھوٹی بیٹی اپنے والد کی بات کا ترجمہ کرنے کی کوشش کرتی رہی۔ بہرحال ہم نے اس کا مطلب سمجھ لیا اور کسی بھی کمیشن کے بغیر اُس کی پینٹنگز کو فروخت کرنے کا فیصلہ کیا۔‘‘ میرونیڈیس نے مزید کہا کہ اُنہیں امید ہے کہ مستقبل میں خطیب کی زیادہ سے زیادہ تصاویر کی نمائش کی جا سکے گی۔

DW.COM