1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجر خاتون جرمنی ميں ’وائن کوئين‘

خانہ جنگی کے شکار ملک شام سے تعلق رکھنے والی ايک چھبيس سالہ مسيحی طالب علم ننورٹا باھنو کو يورپی ملک جرمنی کے ايک علاقے ميں ’وائن کوئين‘ کے اعزاز سے نوازہ گيا ہے۔

ننورٹا باھنو کو ٹريئر نامی قديم جرمن شہر کی ’وائن کوئين‘ کا تاج پہنايا گيا ہے۔ لکسمبرگ کی سرحد سے قريب مغربی جرمنی کے اس شہر ميں اسی ہفتے بدھ کی شب انہيں ’وائن کوئين‘ کا روايتی تاج پہنايا گيا۔ باھنو وائن بنانے والی مقامی کمپنيوں کی مختلف اشياء اور شرابوں کی آئندہ ايک سال کے دوران تقريبات ميں اشتہاری مہم چلائيں گی۔

ننورٹا بانو چھبيس برس کی ہيں اور انہوں نے ساڑھے تين برس قبل شام چھوڑا تھا جبکہ مذہب کے اعتبار سے باھنو مسيحی ہيں۔

ننورٹا باھنو کے بقول وہ اميد کرتی ہيں کہ انہيں اس اعزاز سے نوازے جانے سے جرمنی ميں مہاجرين کے انضمام کا عمل آگے بڑھے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ميں يہ ثابت کرنا چاہتی ہوں کہ جرمنی ايک ايسا ملک ہے، جہاں لوگوں کو خوش آمديد کہا جاتا ہے۔ جرمن لوگ بہت مہمان نواز ہيں اور مہاجرين کے جلد اور کامياب انضمام کو يقينی بنانے کے ليے کوششيں کرتے ہيں۔‘‘

انہوں نے مزيد کہا کہ ايک مہاجر کی حيثيت سے ابتداء ميں کسی نئی جگہ پر اپنا مقام تلاش کرنے اور سماجی سطح پر گھلنے ملنے کے ليے وقت درکار ہوتا ہے۔

يہ امر اہم ہے کہ جرمنی کی سطح پر ’وائن کوئين‘ قرار ديے جانے کی روايت سن 1930 سے جاری ہے۔ ہر سال ستمبر ميں جرمنی ميں وائن بنانے والے تيرہ مختلف علاقوں کی وائن کوئينز ايک مقابلے ميں شرکت کرتی ہيں اور پھر کسی ايک کو ’جرمن وائن کوئين‘ کا اعزاز ديا جاتا ہے۔

ملتے جلتے مندرجات