شامی مہاجر بچے کم عمری ميں شادی اور مزدوری کے خطرے سے دوچار | مہاجرین کا بحران | DW | 10.01.2018
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجر بچے کم عمری ميں شادی اور مزدوری کے خطرے سے دوچار

امدادی اداروں نے خبردار کيا ہے کہ خانہ جنگی کے سبب سياسی پناہ کے ليے لبنان ہجرت کرنے والے شامی پناہ گزينوں ميں غربت بڑھ رہی ہے، جس کی وجہ سے بچوں ميں مشقت اور کم عمری ميں شاديوں جيسے رجحانات ميں اضافے کا امکان ہے۔

بچوں کے ليے اقوام متحدہ کے ادارے يونيسف، ورلڈ فوڈ پروگرام اور اقوام متحدہ کے ہائی کميشن برائے مہاجرين (UNHCR) کی جانب سے کرائے گئے ايک سروے ميں سامنے آيا ہے کہ لبنان ميں مقيم شامی تارکين وطن کی موجودہ صورتحال اس وقت سے بدتر ہے جب وہ اپنے ملک کے مسلح تنازعے کے آغاز پر لبنان گئے تھے۔ پچھلے سال کے اواخر ميں کرائے گئے اس مطالعے سے پتہ چلا ہے کہ لبنان ميں پناہ ليے ہوئے شامی تارکين وطن کا تين چوتھائی حصہ چار ڈالر يوميہ سے بھی کم پر گزر بسر کر رہا ہے۔ اس سے انہيں روز مرہ کی ضروريات پوری کرنے ميں دشوارياں پيش آ رہی ہيں۔

 

لبنان ميں يو اين ايچ سی آر کے ترجمان اسکوٹ کريگ نے خبر رساں ادارے کو بتايا، ’’لبنان ميں موجود شامی مہاجرين کی صورتحال ميں مزيد خرابی پيدا ہو رہی ہے۔ وہ غريب سے غريب تر ہوتے جا رہے ہيں۔‘‘ يہ امر اہم ہے کہ لبنان ميں شامی تارکين وطن کی مجموعی تعداد ڈيڑھ ملين کے لگ بھگ ہے، جو اس ملک کی آبادی کے ايک چوتھائی حصے کے برابر ہے۔ بيروت حکومت نے ان پناہ گزينوں کی رہائش کا کوئی خصوصی انتظام نہيں کيا ہے۔ اسی وجہ سے يہ مہاجرين غير سرکاری بستيوں اور خيموں ميں گزر بسر کر رہے ہيں۔ قانونی رہائش اور ملازمت کے سلسلے ميں بھی انہيں کئی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

يونيسف کی لبنان ميں ترجمان تانيا چاپوئيسيٹ کے بقول غربت کا براہ راست نتيجہ کم عمری ميں شادی اور بچوں سے مشقت کی صورتوں ميں نکلتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا، ’’ہميں خدشہ ہے کہ شامی تارکين وطن ميں بڑھتی ہوئی غربت يہ نکلے گا کہ اسکول جانے کے بجائے يہ بچے يا تو اپنے اہل خانہ کی ضروريات پوری کرنے کے ليے کام کاج شروع کر ديں گے يا پھر ان ميں سے کئی کو بياہ ديا جائے گا۔‘‘

يونيسف کے مطابق اس وقت لبنان ميں موجود پانچ تا سترہ برس کی درميانی عمر والے شامی مہاجر بچوں کی پانچ فيصد تعداد ملازمت کر رہی ہے جبکہ پندرہ اور پچيس سال کے درميان کی عمر والی ہر پانچ ميں سے ايک لڑکی کی شادی ہو چکی ہے۔ نارويجيئن ريفيوجی کونسل کے ترجمان مائيک بروس کا کہنا ہے کہ انسانی بنيادوں پر ناکافی امداد اور ملازمت کے مواقع کی عدم دستيابی کے سبب شامی خاندان قرض کے بوجھ تلے دبتے جائيں گے اور وہ منفی راستے اختيار کر سکتے ہيں يعنی کم عمری ميں شادیوں اور چائلڈ ليبر کی طرف بڑھا جا سکتا ہے۔

DW.COM