1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجر اوپیرا گلوکارہ کا ٹرمپ کے دفتر کے قریب گلوکاری کا مظاہرہ

شامی مہاجرین میں شامل اوپیرا گلوکارہ لبانہ القنطر نے ڈونلڈ ٹرمپ کی انتخابی مہم کے دفاتر سے محض نصف گھنٹے کی مسافت پر درجنوں دیگر فنکاروں کے ہمراہ ایک خصوصی کنسرٹ میں شرکت کی۔

مہاجرین کے عالمی دن پر منعقد کیے جانے والے موسیقی کے اس پروگرام کا مقصد اُن مہاجرین کے ساتھ ثقافتی پارٹنرشپ ظاہر کرنا تھا جو جنگی حالات میں اپنے ملکوں سے ہجرت کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ امریکی صدارتی الیکشن میں ری پبلکن پارٹی کے ممکنہ امیدوار ارب پتی کاروباری شخصیت ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن قبل ہی شامی مہاجرین کی امریکا آمد پر پابندی عائد کرنے کے اپنے موقف کو دہرایا تھا۔

گزشتہ روز ہونے والے اس کنسرٹ میں شامی گلوکارہ القنطر کی آواز نے موسیقی کے شائقین کو اپنے سحر میں گرفتار کر رکھا تھا۔ اِس کنسرٹ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے کے بعد القنطر نے ایک سدا بہار شامی گیت، ''یا غزالی‘‘ گایا۔

USA Republikaner Donald Trump in Las Vegas

ڈونلڈ ٹرمپ نے چند دن قبل ہی شامی مہاجرین کی امریکا آمد پر پابندی عائد کرنے کے اپنے موقف کو دہرایا تھا

بروک لین چرچ میں کنسرٹ کے آغاز سے پہلے القنطر نے نیوز ایجنسی اے ایف پی کو بتایا،’’ اب میں جو بھی گیت اگر دبے سروں میں گنگناؤں بھی تو اس میں تنہائی اور محرومی جھلکتی ہے۔ یہ ایک نا قابل یقین بات ہے۔‘‘ ان کا کہنا تھا کہ دنیا پر اب یہ ظاہر کرنا ضروری ہے کہ مہاجروں کے پاس بھی صلاحیتیں اور خواب ہیں۔‘‘

القنطر گزشتہ پانچ سال سے جاری شامی تنازعے کے بعد مہاجرت کر کے امریکی دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی میں مقیم ہیں۔ القنطر کا تعلق شام کے علاقے سویدا سے ہے۔ القنطر کے مطابق وہ امریکا میں مقیم ہے لیکن اُس کی روح سویدا میں بسی ہوئی ہے۔

بروک لینڈ چرچ میں اپنے فن کا مظاہرہ کرنے والا یہ آرکسٹرا پناہ گزین موسیقاروں اور ایسے لوگوں کو اکٹھا کرتا ہے جن کے خاندانوں یا دوستوں کو مہاجرت کا سامنا کرنا پڑا۔

گزشتہ روز اقوام متحدہ کی جانب سے شائع کردہ ایک رپورٹ میں کہا گیا تھا کہ سن 2015 میں 65.3 ملین افراد بے گھر ہوئے جو ایک تاریخی ریکارڈ ہے۔

DW.COM