1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کی ضرورت ہے، بان کی مون

اقوام متحدہ کے سربراہ نے عالمی برادی پر زور دیا ہے کہ آئندہ تین برسوں کے دوران تقریبا نصف ملین شامی مہاجرین کی آباد کاری کو ممکن بنایا جائے۔ تاہم متعدد یورپی ممالک مہاجرین کی تقسیم کے منصوبے کو مسترد کرچکے ہیں۔

Schweiz UN Ban Ki-moon in Genf

شامی مہاجرین کے ساتھ اظہار یک جہتی کی ضرورت ہے، بان کی مون

خبر رساں ادارے روئٹرز نے بتایا ہے کہ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بان کی مون نے تیس مارچ بروز بدھ جنیوا میں کہا ہے کہ تمام ممالک شامی مہاجرین کی آباد کاری میں مدد فراہم کریں۔ اقوام متحدہ کے ذیلی ادارہ برائے مہاجرت (یو این ایچ سی آر) کی زیر پرستی میں منعقد کی جانے والی اس کانفرنس کا افتتاح کرتے ہوئے بان کی مون نے کہا کہ اس وقت مہاجرین کے بحران سے نمٹنے کے لیے یک جہتی دِکھانے کا وقت ہے۔

DW.COM

اقوام متحدہ کی کوشش ہے کہ آئندہ تین برسوں کے دوران کم از کم چار لاکھ اسّی ہزار مہاجرین کی آباد کاری کو ممکن بنایا جائے۔ ان شامی مہاجرین کا کم از کم دس فیصد شام کے ہمسایہ ممالک میں ہی پناہ گزین ہے۔ اس بحران کی وجہ سے یورپ کو بھی مسائل کا سامنا ہے۔

بان کی مون نے جنیوا میں سفارتکاروں سے خطاب میں کہا کہ شامی مہاجرین کی بہبود کے لیے نئے عہد کرنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس تناظر میں ان مہاجرین کی آبادی کاری کے علاوہ ان کے کنبوں کا ملاپ، تعلیم، انضمام اور ملازمت کے مواقع بھی فراہم کیے جانا چاہییں۔

نوّے ممالک کے سفارتکاروں سے خطاب میں بان کی مون نے کہا، ’’ہم اس وقت کے سب سے بڑے بحران کے حل کی کوششوں کے لیے جمع ہوئے ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ شامی مہاجرین کو ایسے مواقع فراہم کیے جانا چاہییں، جن کی مدد سے وہ اپنی زندگیوں کو بہتر انداز میں گزانے میں کامیاب ہو سکیں۔

جنیوا میں منعقد کی جا رہی اس کانفرنس کا مقصد بھی یہی ہے کہ شامی مہاجرین کی آبادی کاری کے حوالے سے ایک نئی حکمت عملی وضع کی جائے اور زیادہ سے زیادہ ممالک کو اس عمل میں شریک کیا جائے۔ اقوام متحدہ کے ادارہ برائے مہاجرین کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اب نئی کوشش یہ ہے کہ ایسے ممالک کو بھی شامی مہاجرین کی آباد کاری کے حوالے سے ساتھ ملایا جائے، جو ابھی تک اس سے دور ہیں۔

یو این ایچ سی آر کے اعدادوشمار کے مطابق ہر دسویں میں سے ایک شامی مہاجر کو آباد کاری کی ضرورت ہے۔ اس ذیلی ادارے کے سربراہ فلیپو گرانڈی نے کہا ہے کہ موجودہ وقت میں مہاجرین شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ ’’ہمیں اس بحران کا انسانی، منصفانہ اور قابل عمل حل تلاش کرنا ہو گا۔‘‘ گرانڈی کے بقول اگر عالمی برادری متحد ہو جاتی ہے تو یہ کوئی مشکل کام ثابت نہیں ہو گا۔

Griechenland Idomeni Grenze Mazedonien Flüchtlinge

شام کا بحران چھٹے سال میں داخل ہو چکا ہے

شام کا بحران چھٹے سال میں داخل ہو چکا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اس تنازعے کی وجہ سے کم از کم دو لاکھ پچاس ہزار افراد مارے جا چکے ہیں جبکہ پانچ ملین شامی مہاجرین دیگر ممالک میں پناہ حاصل کرنے کی کوشش میں ہیں۔ ان میں سے زیادہ تر ہمسایہ ممالک یعنی ترکی، لبنان، عراق اور اردن میں عارضی پناہ گاہوں میں زندگی بسر کر رہے ہیں۔

گرانڈی کے مطابق اگر یورپ لبنان کی طرح اپنی آبادی کے تناسب سے مہاجرین کی آباد کاری پر رضا مند ہوتا ہے تو اسے سو ملین مہاجرین کو جگہ دینا ہو گی۔ لبنان کی کل آبادی چار ملین ہے جبکہ اس وقت وہاں ایک ملین شامی مہاجرین موجود ہیں۔ اس باعث بیروت حکومت کو شدید انتظامی مسائل کا سامنا بھی ہے۔