1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجرین سے بھری کشتیاں قبرص پہنچ گئیں

بحیرہ روم کے جزیرے قبرص میں مہاجرین سے بھری دو کشتیوں کی آمد کے بعد دو افراد کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ترک کوسٹ گارڈز کا کہنا ہے کہ اس ہفتے بلقان ممالک جانے والے تین سو تیرہ تارکین وطن کو روکا جا چکا ہے۔

قبرص حکام کے مطابق اتوار کی صبح مہاجرین سے بھری دو کشتیوں کو جزیرے کے شمال مغربی ساحلوں سے دور کھلے پانیوں میں دیکھا گیا جس کے بعد امدادی کارروائی کرتے ہوئے ان کشتیوں پر سوار قریب تین سو شامی تارکین وطن کو ساحلی علاقے تک پہنچا دیا گیا۔

قبرص میں پولیس ترجمان کے مطابق ان مہاجرین میں دو سو دو مرد، تیس خواتین اور تہتر بچے شامل ہیں جو ترکی میں مرسین کے ساحل سے ہفتے کے روز روانہ ہوئے تھے۔

 مقامی پولیس کے مطابق دونوں کشتیوں میں سے ایک کو چلانے کے شبے میں ایک چھتیس سالہ شخص کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایک دوسرے شخص کو، جس کی عمر قریب انتیس سال ہے، انسانی اسمگلنگ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔

حکام کا کہنا ہے کہ پناہ گزینوں کی حالت تسلی بخش ہے اور انہیں دارالحکومت  نکوسیا کے مغربی علاقے میں واقع استقبالیہ سینٹرز پہنچا دیا گیا ہے۔ حکام نے مہاجرین کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ ان تارکین وطن نے انسانی اسمگلروں کو یورپ پہنچنے کے لیے دو ہزار ڈالر فی کس ادا کیے تھے۔ سن دو ہزار چودہ سے اب تک قبرص کے جزیرے پر پندرہ سو کے قریب تارکین وطن کو لے کر درجن بھر کشتیاں پہنچی ہیں۔

یہاں یہ امر بھی اہم ہے کہ سن دو ہزار گیارہ میں شروع ہونے والے شامی تنازعے کے بعد پہلی مرتبہ اتنی بڑی تعداد میں شامی مہاجروں کا کوئی گروپ قبرص پہنچا ہے۔

DW.COM

ملتے جلتے مندرجات