’شامی مہاجرین دہشت گرد نہیں‘ | مہاجرین کا بحران | DW | 20.11.2015
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

’شامی مہاجرین دہشت گرد نہیں‘

حسین الرستم نے شام میں اپنا سب کچھ کھو دیا۔ وہ خانہ جنگی سے فرار ہو کر اپنے بچوں کے ہمراہ امریکا آن بسا۔ اب وہ انگریزی سیکھ رہا ہے، رات کی شفٹ میں 12 گھنٹے کی نوکری کرتا ہے اور اس کا کہنا ہے، شامی باشندے دہشت گرد نہیں۔

حسین الرستم سخت محنت کر رہا ہے اور اپنے بچوں کو امریکا میں پھلتا پھولتا دیکھ رہا ہے۔

جیرسی شہر میں بطور مہاجر آن بسنے والے حسین الرستم خود کو ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع فراہم کرنے والے ملک امریکا کے باسیوں کو پیغام دینا چاہتے ہیں اور کہتے ہیں، ’’شامی باشندے دہشت گرد نہیں ہیں۔‘‘

حسین الرستم کا یہ پیغام ٹھیک اس دن سامنے آیا ہے، جب امریکا کے ایوانِ نمائندگان نے ایک قرارداد کو منظور کیا ہے، جس میں واشنگٹن انتظامیہ سے کہا گیا ہے کہ وہ شامی اور عراقی مہاجرین کو اس وقت تک ملک میں داخل نہ ہونے دے، جب تک ان کی سخت سکیورٹی جانچ پڑتال نہ کر لی جائے۔

Frankreich Saint Denis Polizei Absperrung Terrorismus

پیرس حملوں کے بعد مہاجرین کو پناہ دینے کے معاملے میں آرا میں خاصی تبدیلی دیکھی گئی ہے

یہ پہلاقانونی ردعمل گزشتہ ہفتے پیرس میں ہونے والے دہشت گردانہ حملے اور ان اطلاعات کے بعد سامنے آیا کہ ممکنہ طور پر حملہ آوروں میں سے ایک شامی مہاجرین کے ساتھ یورپ میں داخل ہوا تھا۔

خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق شامی مہاجرین کو پناہ دینے کا معاملہ امریکا کی داخلی سیاست میں ’فٹ بال کے کھیل‘ جیسا روپ دھار گیا ہے، جہاں ایک طرف ری پبلکن سیاستدان یہ زور دے رہے ہیں کہ صدر اوباما کو اگلے برس دس ہزار مہاجرین کو پناہ دینے کے منصوبے سے باز رکھا جائے جب کہ دوسری جانب صدر اوباما مصر ہیں کہ مہاجرین کو پناہ دی جائے گی۔

صدر اوباما نے خبردار کیا ہے کہ ایسا کوئی قانونی بل منظور کیا گیا تو وہ اپنا ویٹو کا حق استعمال کریں گے۔ صدر اوباما کی جانب سے ری پبلکنز پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ وہ خواہ مخواہ کے خوف کا شکار ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شامی اور عراقی مہاجرین کو امریکا میں بسانے سے قبل ان کی سکیورٹی جانچ کی جائے گی۔

حسین الرستم کا کہنا ہے، ’’شامی باشندے کام کرنا پسند کرتے ہیں۔ وہ زندہ رہنا چاہتے ہیں۔ وہ زیادہ آزادی اور زیادہ مواقع کے خواہش مند ہیں۔‘‘

وہ مزید کہتے ہیں، ’‘اصل میں شامی ہیں جو دہشت گردوں کے اقدامات سے فرار ہو کر دیگر ممالک کا رخ کر رہے ہیں، وہ کسی دوسرے ملک میں دہشت گردی کا باعث کیسے ہو سکتے ہیں؟‘‘

اکتوبر 2011 سے اب تک امریکا نے 2180 شامی مہاجرین کو اپنے ہاں پناہ دی ہے، جب کہ ترکی نے دو ملین، لبنان نے قریب ایک ملین اور اردن نے پانچ لاکھ مہاجرین کو پناہ دی ہے۔

رستم اور ان کے اہل خانہ شام سے جیرسی شہر میں بسائے گئے ان پہلے چار خاندانوں میں شامل تھے، جنہیں سب سے پہلے پناہ دی گئی۔ جیرسی شہر کی آبادی دو لاکھ باسٹھ ہزار ہے، جس میں سے 41 فیصد ایسے افراد ہیں جو امریکا میں پیدا نہیں ہوئے۔

اس سے قبل امریکا کی کم از کم 27 ریاستوں کے گورنروں نے مزید شامی مہاجرین کو امریکا میں قبول کرنے کے منصوبے کی مخالفت بھی کی تھی۔