1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجرين کے حوالے سے پاليسی ميں کوئی تبديلی نہيں، جرمنی

شامی پناہ گزينوں کو ’فيملی ری يونيفيکيشن‘ ويزے نہ دينے کے حوالے سے جرمن وزير داخلہ کے ايک بيان کے بعد برلن حکومت نے يقين دہانی کرائی ہے کہ شامی مہاجرين کے حوالے سے پاليسی ميں کوئی تبديلی نہيں آئی ہے۔

نيوز ايجنسی اے ايف پی کی جرمن دارالحکومت برلن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق حکومتی ترجمان سٹيفان زائبرٹ نے جمعے کے روز اپنے ايک بيان ميں کہا کہ وفاقی دفتر برائے ہجرت و مہاجرين کی پاليسی ميں تاحال کوئی تبديلی رونما نہيں ہوئی ہے۔ انہوں نے وضاحت کی کہ برلن حکومت نے شامی پناہ گزينوں کے ليے اب تک دروازے کھلے رکھے ہيں اور انہيں تحفظ کے ليے سب سے اونچا درجہ يعنی ’پرائمری پروٹيکشن‘ ديا گيا ہے۔ ان کے بقول شامی پناہ گزينوں کو تين سال کے ليے قيام کی اجازت اور ’فيملی ری يونيفيکيشن‘ يا اپنے اہل خانہ کو بھی جرمنی بلانے کی سہوليات ميسر ہيں۔ زائبرٹ نے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے جاری کردہ اپنے پيغام ميں واضح کيا کہ تاحال اسی پاليسی پر عملدرآمد جاری ہے۔

برلن حکومت کے ترجمان کی جانب سے جمعے کے روز يہ بيان اس وقت جاری کيا گيا، جب اس سے قبل جرمن وزير داخلہ تھوماس ڈے ميزيئر نے ايک مقامی ريڈيو اسٹيشن پر بات چيت کرتے ہوئے کہا تھا کہ شامی پناہ گزينوں کو جرمنی ميں قيام کے ليے کم مدت کے ويزے ديے جائيں گے اور انہيں اپنے اہل خانہ کو يہاں بلانے کا حق بھی نہيں ہو گا۔ ڈے ميزيئر نے يہ بات جمعے کی صبح ’ڈوئچ لانڈ ريڈيو‘ پر بات کرتے ہوئے کہی۔ قبل ازيں جرمن اخبار ’فرانکفرٹر الگمائنے سائٹنگ‘ اس بارے ميں رپورٹ شائع کر چکا ہے کہ جرمن حکومت مہاجرين سے متعلق اپنی پاليسی ميں تبديلی پر غور کر رہی ہے۔

کئی اندازوں کے مطابق جرمنی ميں رواں سال کے اختتام تک ايک ملين مہاجرين کی آمد متوقع ہے۔ اگرچہ چانسلر انگيلا ميرکل اب تک پناہ گزينوں کے ليے ’کھلے دل اور کھلے دروازوں‘ کی پاليسی پر عملدرآمد کرتی آئی ہيں تاہم چند انتہائی دائيں بازو کے گروپوں کے شديد احتجاج، انتظامی مسائل اور اپنے ہی اتحاديوں کی جانب سے مخالفت کے سبب وہ پچھلے دنوں کافی دباؤ کا شکار رہی ہيں۔ جرمنی کی مخلوط حکومت ميں شامل اتحادی جماعتوں کے مابين دراڑوں کے نتيجے ميں چانسلر ميرکل نے پہلے گزشتہ اتوار کو اور پھر اس ہفتے جمعرات کے روز اپنے اتحاديوں سے بات چيت کی، جس ميں ايک معاہدے پر اتفاق ہو گيا ہے۔

اس معاہدے کے تحت سياسی پناہ کے ناکام درخواست دہندگان کی جلد از جلد ملک بدری کو يقينی بنايا جائے گا۔ ملاقات کے بعد ہونے والی پريس کانفرنس ميں بھی ميرکل اور اتحادی جماعتوں کے سربراہان نے پاليسی ميں ترميم کے حوالے سے کوئی بات نہيں کی تھی۔ ’فرانکفرٹر الگمائنے سائٹنگ‘ کے مطابق رواں سال اگست ميں شام سے تعلق رکھنے والے پناہ گزينوں نے سياسی پناہ کی 55,600 درخواستيں جمع کرائيں، جن ميں سے 38,600 منظور کی جا چکی ہيں جبکہ صرف 53 کو جزوی سياسی پناہ ملی ہے۔