1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی مہاجرين کو اپنے ملک کے دفاع کے ليے لڑنے بھيج ديں، پولش وزير

پولينڈ ميں دائيں بازو کی جانب جھکاؤ رکھنے والی حکومت نے حلف اٹھا ليا ہے اور نئے وزير خارجہ نے يورپ پہنچنے والے شامی پناہ گزينوں کو تربيت فراہم کر کے اپنے ملک کے دفاع کے ليے لڑنے بھيجنے کی تجويز دی ہے۔

نو منتخب کابينہ نے ايک منٹ کی خاموشی اختيار کرتے ہوئے جمعے کے دن فرانسيسی دارالحکومت پيرس ميں ہونے والے دہشت گردانہ حملوں ميں ہلاک ہونے والوں کو خراج عقيدت پيش کيا۔ پولش دارالحکومت وارسا کے صدارتی محل ميں حلف برداری کی يہ تقريب پير 16 نومبر کو منعقد ہوئی۔

وزير اعظم بياٹا شِيدو کی ’لا اينڈ جسٹس‘ (PiS) پارٹی نے پچيس اکتوبر کو منعقدہ انتخابات ميں اکثريت حاصل کر لی تھی۔ انہيں اپنی جماعت کے حمايت يافتہ صدر Andrzej Duda سے بھی مدد حاصل ہو گی۔انتخابی مہم کے دوران اس جماعت نے مہاجرين کے ليے دروازے بند کرنے اور اس کے بدلے مہاجرين کے موجود بحران کے حل کے ليے يورپی يونين کی مالی امداد بڑھانے کا عنديہ ديا تھا۔

وزارت عظمٰی کا عہدہ سنبھالنے کے بعد پير کے روز اپنے پہلے انٹرويو ميں شِيدو نے ايک مقامی نشرياتی ادارے کو بتايا کہ نئی حکومت پناہ گزينوں کی منتقلی کے ليے يورپی يونين کی اسکيم کے تحت پچھلی حکومت کی جانب سے نو ہزار مہاجرين کو پناہ فراہم کرنے کے اعلان پر عملدرآمد کرے گی۔ انہوں نے مزيد کہا کہ کے ملک اور عوام کی حفاظت اولين ترجیح ہے تاہم ’پولينڈ وعدہ خلافی نہيں کرتا۔‘

وزير اعظم بياٹا شِيدو نے مہاجرين کے بحران کا حل تلاش کرنے کے ليے يورپی سطح پر سنجيدہ مذاکرات کا مطالبہ بھی کيا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’يقيناً ہميں مستحق افراد کے ليے امداد کا نظام کھڑا کرنا ہے ليکن ہم بغير سوچے سمجھے ايسے اقدامات نہيں کر سکتے، جن سے مسئلہ مزيد بگڑے۔‘‘ ايک سابق کان کن کی بيٹی اور اب پولينڈ کی وزير اعظم باون سالہ بياٹا شِيدو نے اپنے ملک کے مسائل دور کرنے کا عہد کيا ہے۔

نومنتخب پولش کابينہ کے ارکان

نومنتخب پولش کابينہ کے ارکان

’شامی پناہ گزينوں کی فوج بنا کر انہيں واپس بھيج ديا جائے‘

پولينڈ کے نو منتخب وزير خارجہ Witold Waszczykowski نے اتوار کے روز اپنے ايک بيان ميں کہا تھا کہ يورپ پہنچنے والے شامی مہاجرين کو تربيت فراہم کر کے ان کی ايک فوج تشکيل دی جائے، جو شام واپس جا کر اپنے ملک کے دفاع کے ليے لڑ سکتی ہے۔ انہوں نے کہا، ’’گزشتہ دنوں ہزاروں، لاکھوں شامی شہری يورپ پہنچ چکے ہيں۔ ہم ايک فوج کی تشکيل ميں ان کی مدد کر سکتے ہيں۔‘‘ پولش وزير خارجہ کے مطابق ہزارہا نوجوان ربڑ کی کشتيوں سے آئی پيڈ ہاتھوں ميں ليے اترتے ہيں اور کھانے پينے کی اشياء کی بجائے اپنے موبائل فون چارج کرنے کے ليے چارجرز کا پوچھتے نظر آتے ہيں۔ يہ لوگ واپس جا کر اپنے ملک کو آزاد کرانے ميں کردار ادا کر سکتے ہيں۔ نو منتخب وزير کے بقول وہ ايسی کسی صورتحال سے بچنا چاہتے ہيں، جس ميں ’’ان کے فوجی شام جا کر لڑيں جبکہ شامی باشندے برلن يا ديگر يورپی شہروں ميں بيٹھ کر کافی نوش فرمائيں۔‘‘