1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی مبصر مشن پر اپوزیشن کی تنقید

عرب لیگ کا مبصر مشن تین دنوں سے شام میں موجود ہے۔ اس دوران مشن کے اراکین حُمص کا دورہ کر چکے ہیں۔ مشن کے سربراہ کے بیان سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شام میں حالات خراب تو ہیں لیکن تشویشناک حد تک نہیں۔

عرب لیگ کے مبصرین حمص کے بعد درعا، حماء اور ادلیب کی صورتحال کا جائزہ لے رہے ہیں۔ تاہم ضلع باب امر میں انہیں تباہ حال گھر دکھائی دیئے اور وہاں کی مقامی آبادی نے انہیں اپنے اوپر ڈھائے جانے والے مظالم کی داستانیں بھی سنائیں۔ ساڑھے سات سو قیدیوں کی رہائی کے بعد شام کے سرکاری ٹیلی وژن نےحکومت کے اس اقدام کی انتہائی تعریف کی ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے بقول شامی ادارے سینکڑوں کی تعداد میں سیاسی قیدیوں کو مبصر مشن کی نظروں سے خفیہ بھی رکھے ہوئے ہیں۔ عرب مبصرین شام کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اب مزید شہروں کا رخ کر رہے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب ان تین شہروں میں بھی انہیں اسی طرح کی صورتحال دکھائی دے گی۔ مبصر مشن کے سربراہ مصطفیٰ دابی نے صورتحال کی مکمل جانچ پڑتال کے لیے مزید وقت مانگا ہے۔

مشرق وسطیٰ امور کے ماہر یوزیف کیش ایشیان کہتے ہیں کہ مبصر مشن کا پہلا بیان کوئی اچھی علامت نہیں ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ مشن شروع ہونے کے ساتھ ہی الدابی کی جانب سے دیا جانے والا بیان پریشان کن ہے۔ کیا انہیں ُحمص میں ستر ہزار مظاہرین نہیں دکھائی دیے یا انہوں نے گزشتہ مہینوں کے دوران ٹیلی وژن پر ویڈیوز نہیں دیکھیں؟

Syrien Oppositionelle Demonstrationen in Homs

عرب مبصرین شام کی صورتحال کا جائزہ لینے کے لیے اب مزید شہروں کا رخ کر رہے ہیں

ایک مبصر مشن کے سربراہ کے طور پر تحقیقات مکمل کئے بغیر اس طرح کا بیان نہ صرف پریشان کن ہے بلکہ خطرناک بھی ہے۔

مختلف حلقے یہ سوال بھی کر رہے ہیں کہ 150 مبصرین پر مشتمل ٹیم کے لیے یہ کس طرح سے ممکن ہے کہ وہ چار ہفتوں کے دوران شام جیسے بڑے ملک کے حالات کا صحیح اندازہ لگا سکے۔ حُمص جیسے شہر میں انہوں نے صرف چند گھنٹے ہی صرف کیے، جو اصل حقائق سے واقف ہونے کے لیے بہت ہی کم ہیں۔ ساتھ ہی شامی اپوزیشن نے بھی مبصر مشن کی اب تک کی کارکردگی کو تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

یوزیف کیش ایشیان کا کہنا ہے کہ حالات کا ہر رخ سے جائزہ لینا انتہائی اہم ہے ورنہ مبصرین کہیں ناکام ہی نہ ہو جائیں۔’’ میرے خیال میں یہ مبصر مشن اپنے آپ کو صرف تماشائی ہی نہ سمجھ رہا ہو۔ یہ لاکھوں افراد کی زندگی کا معاملہ ہے۔ وہ سیاح نہیں ہیں کہ صرف یہ دیکھیں کہ کہاں کیا ہو رہا ہے۔ ان کو عرب ممالک نےتحقیقات کرنے کی ذمہ داری سونپی ہے۔ ان کو یہ بھی دیکھنا ہے کہ کیا شام کی سڑکوں پر لوگوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں‘‘۔

مبصر مشن گزشتہ کئی ماہ سے جاری شامی تنازعے میں پہلی بین الاقوامی مداخت ہے۔ حماء شہر میں اپوزیشن کے ایک کارکن ابو ہشام نے بتایا کہ لوگوں کو مبصرین سے بہت سی امیدیں وابستہ ہیں۔ عوام چاہتی ہے کہ مشن تک گزشتہ دنوں ہونے والے واقعات کی تفصیلات پہنچائی جائیں لیکن مبصر مشن ان کی پہنچ سے باہر ہے۔ ہشام کے بقول اس طرح لوگوں کے اعتماد کو ٹھیس پہنچی ہے۔

رپورٹ: عدنان اسحاق

ادارت : حماد کیانی

DW.COM