شامی فورسز کی دیرالزور میں کامیاب پیش قدمی | حالات حاضرہ | DW | 17.09.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی فورسز کی دیرالزور میں کامیاب پیش قدمی

شامی فورسز داعش کے زیر قبضہ شہر دیرالزور کو تین اطراف سے گھیرے میں لے کر اپنی پیشقدمی کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ عراق سے متصل اور تیل کی دولت سے مالا مال شامی صوبہ دیرالزور داعش کا آخری اہم ٹھکانہ قرار دیا جاتا ہے۔

خبر رساں ادارے روئٹرز نے شامی فوج کے حوالے سے سترہ ستمبر بروز اتوار بتایا کہ شامی فورسز مقامی ملیشیا گروپوں اور روسی عسکری مدد کے ساتھ صوبے دیرالزور کے اسی نام کے شہر میں داعش کے جنگجوؤں کے خلاف کارروائی میں کامیابیاں حاصل کر رہی ہیں۔ تازہ اطلاعات کے مطابق شامی فورسز نے اس شہر کے کئی نواحی علاقوں سے داعش کو پسپا کرتے ہوئے دیرالزور کا تین اطراف سے محاصرہ بھی کر لیا ہے۔

شامی مہاجر بچوں کی تعلیم کے لیے لاکھوں ڈالر کی امداد غائب

شامی مہاجر بچوں کی بھولی باتوں سے پریانکا متاثر ہو گئیں

داعش کے سینکڑوں عسکریت پسند دیرالزور پہنچ گئے

ویڈیو دیکھیے 01:56

حلب کو ’مکمل تباہی‘ سے بچانے کی کوشش

شامی فورسز نے گزشتہ ماہ ہی دیرالزور میں پچھلے تین سال سے اپنے بڑے ٹھکانے قائم کرنے والے داعش کے جہادیوں کے خلاف پہلی کامیابی حاصل کی تھی۔

روسی نیوز ایجنسی RIA نے نامعلوم ذرائع کے حوالے سے اتوار کے دن بتایا کہ شامی فورسز نے دیرالزور میں داعش کی ایک اہم سپلائی لائن منقطع کر دی ہے اور ایک اہم ضلع الجعفرہ کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

شامی فوجی ذرائع کے مطابق اتحادی فورسز کے ساتھ مشترکہ آپریشن کرتے ہوئے دریائے فرات کے مغرب میں الجعفرہ کا مکمل محاصرہ کیا جا چکا ہے اور اب داعش کے جنگجو صرف صرف دریا پار کر کے ہی وہاں سے فرار ہو سکتے ہیں، ’’ان (داعش کے جنگجوؤں) کے پاس کوئی راستہ نہیں بچا۔ اب وہ فرات عبور کر کے اس دریا کے مشرق میں واقع صحرائی علاقے ہی میں فرار ہو سکتے ہیں۔‘‘

شامی فورسز کی اس پیش قدمی کو داعش کے خلاف جاری کارروائی میں اہم قرار دیا جا رہا ہے کیونکہ اگر داعش کے جہادی دریا پار کر کے دوسری طرف فرار ہوتے ہیں، تو وہاں انہیں امریکی حمایت یافتہ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز کا سامنا کرنا ہو گا۔

سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی تصدیق کر دی ہے کہ شامی فورسز نے ایران نواز ملیشیا گروپوں اور روسی فضائیہ کی مدد سے الجعفرہ میں داعش کو پسپا کر دیا ہے جبکہ ہفتے اور اتوار کی درمیانی رات کی گئی کارروائی میں دیرالزور کے کئی نواحی علاقوں پر بھی قبضہ کر لیا ہے۔ آبزویٹری کے مطابق شامی فورسز کی کامیاب پیش قدمی کے باوجود داعش کے جنگجو اب بھی دیرالزور شہر کی ایک تہائی علاقے پر قابض ہیں۔

اسی صوبے میں امریکی اتحادی کرد اور عرب ملیشیا گروپ بھی داعش کے خلاف اپنی کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ سیریئن ڈیموکریٹک فورسز نامی ملیشیا صوبے دیرالزور کے شمالی علاقوں میں کارروائی کر رہی ہے۔ اس فورس کا کہنا ہے کہ اپنی تازہ کارروائیوں میں اس کے فائٹرز نے دریائے فرات کے مشرق میں واقع چودہ دیہات اور فارموں کے علاوہ دو شہروں کا کنٹرول بھی سنبھال لیا ہے۔

شامی فوج روسی عسکری مدد سے اور امریکی اتحادی سیریئن ڈیموکریٹک فورسز دریائے فرات کی دونوں اطراف سے داعش کے ٹھکانوں پر حملے کر رہے ہیں۔ یہ تاریخی دریا اس صوبے کو دو حصوں میں تقسیم کرتا ہے جبکہ یہی دریا امریکی اور روسی فورسز کے مابین ایک ’لائن آف کنٹرول‘ کا کام بھی کر رہا ہے۔ اس دریا کے مغربی علاقوں میں شامی فورسز فعال ہیں اور مشرقی کنارے پر سیریئن ڈیموکریٹک فورسز۔

DW.COM

Audios and videos on the topic

ملتے جلتے مندرجات