1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی فوج نے بانیاس میں چھ افراد کو ہلاک کر دیا

شام کی فورسز نے ہفتے کے روز بانیاس شہر کے سنی اکثریت کے اضلاع پر حملے کر کے چھ افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ حکومت مخالف مظاہروں سے متاثرہ اس ملک میں اب فرقہ وارانہ فسادات کا خطرہ بھی پیدا ہوتا جا رہا ہے۔

default

یہ حملہ ایک ایسے وقت میں کیا گیا ہے، جب گزشتہ روز 27 افراد کی ہلاکت کے بعد امریکہ کی طرف سے دمشق حکومت کو تنبیہہ کی گئی تھی کہ وہ جمہوریت پسند مظاہرین کے خلاف طاقت کے استعمال سے گریز کرے، بصورت دیگر اس کے خلاف پابندیاں سخت کر دی جائیں گی۔ گزشتہ روز یورپی یونین کی جانب سے بھی شام کو اسلحے کی فروخت اور چند اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے یورپ میں داخلے پر پابندی عائد کی گئی ہے۔

Syrien Banias Proteste Demonstrationen

بانیاس میں ایک مظاہرے کا منظر

جنوبی شہر درعا میں اٹھارہ مارچ سے شروع ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کے بعد سے بانیاس میں مسلسل مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ مظاہرین ملک میں جمہوریت، آزادی اور صدر بشار الاسد کے استعفے کے مطالبات کر رہے ہیں۔

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کا دعویٰ ہے کہ مظاہرین کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں اب تک 800 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ہفتے کے روز شامی فوج بندرگاہی شہر بانیاس میں داخل ہوئی۔ یہ شہر 70 فیصد سنی جبکہ 30 فیصد علوی شیعہ آبادی کا مسکن ہے۔

اطلاعات کے مطابق ہفتے کے روز بانیاس کے نواح میں ساحلی سڑک پر حکومت مخالف خواتین کے ایک چھوٹے اجتماع پر فورسز کی جانب سے کی جانے والی فائرنگ کے نتیجے میں چار خواتین ہلاک ہوئیں۔ انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک کارکن کے مطابق فورسز کی جانب سے ہلکے ہتھیاروں کے علاوہ مشین گنوں کا استعمال بھی کیا جا رہا ہے۔

دوسری جانب لندن میں سینکڑوں افراد نے شامی سفارت خانے کے سامنے مظاہرہ کیا۔ یہ افراد دمشق حکومت سے مطالبات کر رہے تھے کہ وہ مظاہرین کے خلاف طاقت کا استعمال فوری طور پر ترک کرے۔ یہ مظاہرین شام سمیت دیگر عرب ممالک سے آمریت کے خاتمے کے نعرے بلند کر رہے تھے۔ اس مظاہرے میں شامل افراد نے بشار الاسد اور معمر قذافی سمیت عرب دنیا کے متعدد حکمرانوں کی بڑی بڑی تصاویر اٹھا رکھی تھیں، جن پر سرخ سیاہی سے کراس کا نشان بنایا گیا تھا۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس