1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی علاقے سے ترکی پر بم باری، ایک شخص ہلاک

منگل کے روز شامی سرحدی علاقے سے ترکی پر داغے گئے راکٹوں کے نتیجے میں ایک شخص ہلاک اور کم از کم دو زخمی ہو گئے ہیں۔ جواب میں ترک افواج نے جہادیوں کے ٹھکانوں پر بم باری کی ہے۔

ترک میڈیا کی رپورٹوں کے مطابق منگل کے روز کاٹوشیا ساخت کے راکٹ ترکی کے سرحدی علاقے پر برسائے گئے۔ زخمی ہونے والے دو افراد میں سے ایک کی حالت نازک بتائی جا رہی ہے۔

دوگان نیوز ایجنسی کے مطابق بم باری شام میں متحرک شدت پسند اسلامی تنظیم داعش، جسے ’اسلامک اسٹیٹ‘ یا ’دولت اسلامیہ‘ بھی کہا جاتا ہے، کے زیر قبضہ علاقوں سے کی گئی۔ اس کے جواب میں ترک افواج نے داعش کے ٹھکانوں پر جوابی حملے کیے۔

داعش نے جس علاقے پر بم باری کی وہاں آبادی نہیں تھی، اس کے باوجود ایک شخص زد میں آ کر ہلاک ہو گیا۔

اٹھارہ جنوری کے بعد یہ پہلی مرتبہ ہے کہ شام میں داعش کے زیر قبضہ علاقے سے ترکی پر حملہ کیا گیا ہے۔ اٹھارہ جنوری کے حملے میں ایک شخص ہلاک اور ایک زخمی ہوا تھا۔

یہ حملے ایسے وقت کیے گئے ہیں جب ترک افواج نے شام میں داعش کے ٹھکانوں پر حملوں میں تیزی پیدا کی ہے۔ ترکی گزشتہ دو ہفتوں سے ترکی سے ملحق داعش کے زیر قبضہ علاقوں پر متواتر حملے کر رہا ہے۔

شام میں باغیوں اور حکومت کے درمیان جنگ بندی کے معاہدے کے بعد ملک میں نسبتاً سکون ہے، تاہم جنگ بندی کا اطلاق داعش اور النصرہ فرنٹ کے زیر قبضہ علاقوں پر نہیں ہوتا۔

ترکی نے فائر بندی کے معاہدے کی حمایت کی ہے۔ ستائیس فروری سے نافذ العمل معاہدے کے بعد سے اب تک ترکی نے شام میں موجود کرد باغیوں کے ٹھکانوں کو نشانہ نہیں بنایا۔

امریکا نے ترک حکام سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ کرد باغیوں کے خلاف فوجی کارروائی نہ کرے۔ بین الاقوامی برادری چاہتی ہے کہ ترکی کردوں کے بجائے اپنی توانائی داعش اور دیگر اسلامی عسکریت پسندوں کے خلاف صرف کرے۔

واضح رہے کہ داعش عراق اور شام میں نہ صرف یہ کہ فعال ہے بلکہ اس نے ان دونوں ممالک کے کئی علاقوں پر قبضہ بھی کر لیا ہے۔ داعش کی سرگرمیاں اور کارروائیاں ترکی کی شام سے ملحقہ سرحد تک پہنچ چکی ہیں ، جس کی وجہ سے ترک حکومت کو اس تنظیم کے خلاف کارروائی کرنا پڑ رہی ہے۔

ترکی کا مؤقف ہے کہ شام میں داعش کے خلاف مشترکہ کارروائی کے نتیجے میں قدامت پسند باغیوں کو مدد ملے گی، جنہیں بعد میں امریکا اور ترکی مل کر تربیت بھی دیں گے۔