1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی صوبے حمص کے شہر مہین پر داعش کا قبضہ

خانہ جنگی کے شکار ملک شام کے صوبے حمص میں دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا داعش کے جہادیوں نے دمشق حکومت کے دستوں پر بڑے حملے کے بعد مہین نامی شہر پر قبضہ کر لیا ہے۔ اس دوران درجنوں جہادی اور حکومت نواز فائٹر مارے گئے۔

IS Syrien Kämpfer Islamischer Staat Rakka

مہین پر قبضے سے پہلے وہاں دو خود کش کار بم حملے بھی کیے گئے

لبنانی دارالحکومت بیروت سے اتوار یکم نومبر کو ملنے والی نیوز ایجنسی روئٹرز کی رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ مہین کا شہر صوبے حمص کے جنوب مغرب میں واقع ہے جس پر اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے جہادی آج اتوار کی صبح قبضہ کر لینے میں کامیاب ہو گئے۔

اس قبضے کی تصدیق داعش کے جہادیوں نے بھی کی ہے جبکہ شامی اپوزیشن کی ایک تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس نے بھی کہا ہے کہ اسلامک اسٹیٹ کے جہادی مہین پر قابض ہو گئے ہیں۔ داعش نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’عسکری حوالے سے اس اہم قصبے پر قبضے‘ کے بعد وہاں سے حکومت نواز فائٹرز کے کافی ہتھیار بھی قبضے میں لے لیے گئے۔

مہین پر قبضے کے لیے جہادیوں نے وہاں دمشق میں صدر بشار الاسد کی حکومت کے حامی فائٹرز پر ایک بڑا حملہ بھی کیا۔ اس حملے کے بعد شروع ہونے والی لڑائی میں روئٹرز کے مطابق اطراف کے کم از کم 50 جنگجو ہلاک یا زخمی ہوئے۔

سیریئن آبزرویٹری کے مطابق اس شہر پر قبضے کے بعد داعش کے جہادی اب اس مرکزی شاہراہ سے محض 20 کلومیٹر یا 13 میل دور رہ گئے ہیں، جو ملکی دارالحکومت دمشق کو حمص اور شمال میں کئی دیگر اہم شہروں سے ملاتی ہے۔

دیگر رپورٹوں میں بتایا گیا ہے کہ مہین پر قبضے کی اپنی کوششوں میں داعش کے جہادیوں نے پہلے اس شہر میں ہفتے کو رات گئے دو خود کش کار بم حملے کیے، جن کے بعد آج صبح لڑائی کے نتیجے میں وہ مہین پر قابض ہو گئے۔

Syrien Homs Zerstörung Stadt Krieg

صوبے حمص کا دارالحکومت اور اسی نام کا شہر جنگ سے بری طرح تباہ ہو چکا ہے

روئٹرز کے مطابق حمص میں مہین کے شہر کے قریب ہی آج اتوار کو صدد کے مضافات میں بھی اسلامک اسٹیٹ کے جہادیوں اور حکومت نواز فائٹرز کے مابین جھڑپیں جاری رہیں۔ داعش کے جنگجو اس قصبے کی طرف بھی اپنی پیش قدمی جاری رکھنے کی کوشش میں ہیں۔ مہین کے نواح میں واقع صدد کی آبادی میں اکثریت کا تعلق شامی مسیحی برادری سے ہے۔

شام میں دولت اسلامیہ کے جہادیوں کے بڑے گڑھ ملک کے شمال اور مشرق میں ہیں۔ تاہم اسی سال پالمیرا کے تاریخی شہر پر قبضے کے بعد سے داعش نے صوبے حمص میں اپنی کارروائیاں اور جہادیوں کی تعداد کافی بڑھا دی تھی۔ اس کے علاوہ یہ جہادی مہین سے صرف 15 کلومیٹر دور ایک اور قصبے القریتین پر بھی قبضہ کر چکے ہیں۔

DW.COM