1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مزید 34 مظاہرین ہلاک

جمعے کے روز شام کے مختلف علاقوں میں مظاہرے کرنے والے لاکھوں افراد کے خلاف سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں میں کم از کم 34 افراد کی ہلاکت کی اطلاعات ہیں۔

default

نماز جمعہ کے بعد مختلف شہروں کی سڑکوں پر مارچ کرنے والے مظاہرین نے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے لیے اپنا احتجاج جاری رکھتے ہوئے زبردست نعرے بازی کی۔ صدر بشار الاسد کی طرف سے مظاہرین کے خلاف آپریشن کے خاتمے کے اعلان کے باوجود سکیورٹی فورسز نے اپنا کریک ڈاؤن جاری رکھا۔

دریں اثناء روس اور ترکی نے امریکی صدر باراک اوباما کی جانب سے کیے گئے ان مطالبات کو مسترد کیا ہے، جن میں بشارالاسد سے حکومت چھوڑنے کا کہا گیا تھا۔ اس سے قبل اقوام متحدہ کی جانب سے بشار الاسد حکومت پر الزام عائد کیا گیا کہ اس نے مظاہرین کو ’دیکھتے ہی گولی مار دینے‘ کی پالیسی اپنائی ہوئی ہے۔

دوسری جانب سیاسی محاذ پر شام کے ’انقلابی بلاک‘ میں شامل مختلف اپوزیشن گروپوں نے ایک مرتبہ پھر حکومت کے خاتمے کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان کرتے ہوئے رواں برس مارچ کے وسط سے اب تک سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہلاک ہونے والے دو ہزار سے زائد مظاہرین کو خراج عقیدت پیش کیا۔

Syrien Demonstrationen

حکومتی کریک ڈاؤن کے جواب میں مظاہروں میں مزید شدید دیکھی گئی ہے

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نگاہ رکھنے والی ایک تنظیم کے مطابق جنوبی صوبے درعا میں سکیورٹی فورسز نے ایک گیارہ سالہ لڑکے اور ایک 72 سالہ معمر شخص کے علاوہ 15 افراد کو ہلاک کیا۔

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق چھ افراد کو حمص کے علاقے میں بھی ہلاک کیا گیا جبکہ ایک شخص دارالحکومت دمشق کے ایک نواحی علاقے میں جاں بحق ہوا۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جمعے کے روز 25 دیگر افراد کو زخمی حالت میں مختلف ہسپتالوں میں بھی منتقل کیا گیا۔ دوسری جانب شام کے سرکاری میڈیا نے ہلاکتوں کی ذمہ داری ’نامعلوم مسلح افراد‘ پر عائد کی ہے۔ شام میں بین الاقوامی میڈیا پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ہلاکتوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں ہے۔

واضح رہے کہ صرف ایک روز قبل صدر بشار الاسد نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون کو یقین دلایا تھا کہ مظاہرین کے خلاف فوجی آپریشن روک دیا گیا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امتیاز احمد

DW.COM