1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مزید 32 مظاہرین ہلاک

شام کی سکیورٹی فورسز نے جمعے کے روز مختلف مقامات پر بشار الاسد حکومت کے خلاف مظاہرے کرنے والے شہریوں کے خلاف جاری کریک ڈاؤن میں مزید 32 افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔

default

شام میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والی ایک مقامی تنظیم کے مطابق صرف دارالحکومت دمشق میں 23 افراد کو ہلاک کیا گیا۔ رواں برس مارچ کے وسط سے شام میں جمہوری اور سیاسی اصلاحات کے سلسلے میں جاری مظاہروں میں دارالحکومت میں جمعے کا روز سب سے زیادہ خونریز رہا۔

ان ہلاکتوں کے بعد ملکی حزب اختلاف نے ہفتے کو قومی مفاہمتی کانفرنس کے بائیکاٹ کا اعلان کیا ہے۔ اپوزیشن لیڈر ولید ال منی نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ سکیورٹی فورسز نے دمشق میں اس شادی ہال کے باہر 14 مظاہرین کو ہلاک کیا، جس میں قومی یکجہتی کانفرنس منعقد ہونا تھی۔

شامی شہر حما میں مظاہرین

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق جمعے کے روز شام میں ہونے والے مظاہروں میں کئی ملین افراد نے شرکت کی۔ مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کی طرف سے مظاہرین پر فائرنگ کے واقعات میں درجنوں افراد زخمی بھی ہوئے ہیں۔ انسانی حقوق کی لوکل کوآرڈینشین کمیٹی نامی ایک تنظیم کے مطابق صرف حما شہر میں سکیورٹی فورسز کی فائرنگ کے نتیجے میں 15 افراد زخمی ہوئے۔ ہلاکتوں اور زخمی ہونے والوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔

دوسری جانب یورپی یونین شام کے خلاف پابندیاں مزید سخت کرنے پر غور کر رہی ہے۔ یورپی سفارتی ذرائع کے مطابق شام پر پابندیاں سخت کرنے کے حوالے سے یورپی ممالک میں اتفاق پایا جاتا ہے۔

ایک یورپی سفارتکار نے خبر رساں ادارے روئٹرز سے بات چیت میں ایک لکھا ہوا پیغام پڑھ کر سنایا، جس میں کہا گیا تھا کہ یورپی یونین شام کو خبردار کر چکی ہے کہ اگر بشار الاسد نے مظاہرین کے خلاف اپنا رویہ تبدیل نہ کیا، تو شام کے خلاف یورپی یونین کی پابندیاں مزید سخت کر دی جائیں گی۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر اس یورپی سفارتکار نے روئٹرز کو بتایا کہ اس مسودے پر یورپی یونین کی 27 ممبر ریاستوں کے سفارتی وفود بات چیت کر رہے ہیں۔ ’’پیر کے روز برسلز میں یورپی یونین کے وزرائے خارجہ کے اجلاس میں ممکنہ طور پر اس مسودے کو منظوری بھی مل جائے گی۔‘‘

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : امجد علی

DW.COM