1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں مزید پانچ افراد ہلاک

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نگاہ رکھنے والے برطانوی ادارے سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق ہفتے کے روز شام میں مزید پانچ افراد سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے ہلاک ہوگئے۔

default

اس ادارے کے مطابق جمعے کے روز ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات کے بعد بشار الاسد حکومت کے خلاف نعرے لگانے والے درجنوں افراد کو حراست میں بھی لیا گیا جبکہ سکیورٹی فورسز کے اہلکار وں نے مختلف گھروں پر چھاپے مار کر بھی متعدد افراد کو گرفتار کیا ہے۔ انسانی حقوق کے اس ادارے کا کہنا ہے کہ صرف ہفتے کے روز گرفتار ہونے والے افراد کی تعداد 200 کے قریب ہے۔

شام میں بین الاقوامی خبر رساں اداروں پر پابندیوں اور صحافیوں کی نقل و حرکت پر قدغن کے باعث وہاں سے اطلاعات کے حصول میں مشکلات کا سامنا ہے اور خبروں کا حصول صرف انسانی حقوق کے کارکنوں اور عام شہریوں کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ان ہلاکتوں یا گرفتاریوں کی آزاد ذرائع سے تصدیق نہیں ہو پائی ہے۔

Flash-Galerie Syrien Beerdigung

جمعے کے روز ہلاک ہونے والے افراد کی آخری رسومات کے موقع پر بھی مظاہرین نے حکومت مخالف نعرے لگائے

دو مظاہرین کو ہفتے کے روز دمشق کے جنوب میں واقع کسوا شہر میں ہلاک کیا گیا۔ اس علاقے میں جمعے کے روز متعدد افراد سکیورٹی فورسز کی گولیاں کا نشانہ بن کر ہلاک ہوئے تھے جبکہ ہفتے کے روز سینکڑوں افراد ہلاک شدگان کی آخری رسومات میں شرکت کے بعد حکومت کے خلاف اور آزادی و جمہوریت کے حق میں نعرے بازی کر رہے تھے۔ دیگر تین افراد کو دمشق میں ہلاک کیا گیا۔

حقوق انسانی کے اس ادارے کے سربراہ رامی عبدالرحمان نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ شام میں مظاہروں کی شدت میں نمایاں اضافہ دیکھا جا رہا ہے جبکہ حکومتی فورسز کی کارروائیوں میں بھی شدت آئی ہے۔

جمعے کے روز لاکھوں افراد نے شام کے مختلف علاقوں میں حکومت مخالف مظاہرےکیے تھے۔ صرف جمعے کو مختلف مقامات پر سکیورٹی فورسز کی فائرنگ سے مجموعی طور پر ہلاک شدگان کی تعداد 20 تھی۔ حقوق انسانی کی تنظیموں کے مطابق مارچ کے وسط سے شام میں بشار الاسد کی حکومت کے خلاف شروع ہونے والی تحریک سے اب تک وہاں 15 سو سے زائد مظاہرین کو ہلاک کیا جا چکا ہے۔

رپورٹ : عاطف توقیر

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM

ویب لنکس