1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی سکیورٹی فورسز نے عید کے دن چار مظاہرین کو ہلاک کر دیا

شام میں سکیورٹی فورسز نے نماز عید کے بعد حکومت مخالف مظاہروں میں شریک افراد کے خلاف کارروائی کرتے ہوئے مزید چار افراد کو ہلاک کر دیا ہے۔ یہ افراد صدر بشار الاسد سے مستعفی ہونے کا مطالبہ کر رہے تھے۔

default

مسلمانوں کے مقدس ماہ رمضان کے بعد عیدالفطر کے موقع پر شام کے مختلف علاقوں میں مظاہرین نے حکومت مخالف مظاہرے کیے۔ بعد نماز عید مختلف مقامات پر ہونے والے ان مظاہروں میں شریک ہزاروں افراد نے صدر بشار الاسد سے حکومت چھوڑنے کے مطالبات کیے اور جمہوریت کے حق میں نعرے لگائے۔

مقامی افراد اور حقوق انسانی کے کارکنوں کے مطابق ملک کے جنوبی شہر درعا کے ایک نواحی علاقے الحرا میں ہونے والی ہلاکتوں میں ایک 13 سالہ لڑکا بھی سکیورٹی فورسز کی گولیوں کا نشانہ بنا۔

انسانی حقوق کی تنظیوں کے مطابق عید الفطر کے موقع پر دارالحکومت دمشق کے مضافاتی علاقوں کے علاوہ حمص اور شمال مغربی صوبے ادلیب کے مختلف مقامات پر بھی مظاہرین نے بڑے عوامی اجتماعات میں شرکت کی۔

NO FLASH Syrien Griechenland Protest Opposition

عینی شاہدین کے مطابق دمشق کے نواحی علاقے حراستہ میں سینکڑوں مظاہرین نے ’عوام بشار الاسد کی حکومت کا خاتمہ چاہتے ہیں‘‘ جیسے نعرے لگائے۔ ان مظاہرین میں حکومتی فورسز کے وہ اہلکار بھی شامل تھے، جو گزشتہ ہفتے کے اختتام پر مظاہرین کے خلاف گولی چلانے سے انکار کے بعد مظاہروں میں شریک ہو گئے تھے۔

مظاہرین نے دمشق کے ایک اور مضافاتی علاقے صقبہ میں اپنے جوتے ہوا میں اچھالتے ہوئے بشار الاسد کے خلاف نعرے بازی کی۔ عرب دنیا میں جوتے اچھالنا انتہائی توہین آمیز عمل سمجھا جاتا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورتحال پر نگاہ رکھنے والی ایک تنظیم کے مطابق صرف ماہ رمضان میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں 551 مظاہرین ہلاک ہوئے۔

دریں اثناء امریکہ نے شامی وزیر خارجہ ولید المعلم سمیت دیگر دو اعلیٰ حکومتی عہدیداروں کے اثاثے منجمد کرنے کا اعلان کیا ہے۔

واضح رہے کہ رواں برس مارچ کے وسط سے شام میں بشار الاسد حکومت کے خلاف عوامی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ انسانی حقوق کی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہاں اب تک دو ہزار سے زائد افراد کو ہلاک کیا جا چکا ہے، تاہم شام میں بین الاقوامی میڈیا پر عائد پابندیوں کی وجہ سے ان اطلاعات کی آزاد ذرائع سے تصدیق ممکن نہیں۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت:  شامل شمس

 

DW.COM