شامی سرحدی صحرا ميں ہزاروں مہاجرين امداد کے منتظر | مہاجرین کا بحران | DW | 27.06.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

مہاجرین کا بحران

شامی سرحدی صحرا ميں ہزاروں مہاجرين امداد کے منتظر

حاليہ خود کش حملے کے بعد اردن کی جانب سے سکيورٹی خدشات کے باعث سرحد بند کر دينے کے نتيجے ميں صحرا ميں پھنسے قريب چونسٹھ ہزار شامی پناہ گزين شدید مشکلات کا سامنا کر رہے ہیں۔

اقوام متحدہ کے ايک ذيلی ادارے ’ورلڈ فوڈ پروگرام‘ کی علاقائی ترجمان عبير عیطیفا نے کہا ہے کہ ان کا ادارہ اردن کے سکيورٹی خدشات کو سمجھتا ہے تاہم يہ اميد کرتا ہے کہ شام کے ساتھ جڑے بارڈر کو جلد ہی کھول ديا جائے گا۔ اردنی دارالحکومت عمان ميں يہ بيان ديتے ہوئے عیطیفا نے واضح کیا کہ سرحد کھولنے ميں تاخير، صحرا ميں پھنسے شامی پناہ گزينوں کی زندگیوں کے ليے خطرناک ہو سکتی ہے۔

اردن کی حکومت نے اپنی سرحد بند کرنے کا فيصلہ گزشتہ ہفتے منگل کے روز کيا تھا۔ يہ فيصلہ اس خود کش حملے کے رد عمل ميں کيا گيا جس کے نتيجے ميں سکيورٹی دستوں کے سات اہلکار ہلاک اور تيرہ ديگر زخمی ہو گئے تھے۔ تفتيش ميں يہ بات سامنے آئی ہے کہ حملہ آور نے اپنا سفر پناہ گزينوں کے خيموں سے شروع کیا تھا۔

ہزاروں شامی مہاجرين کئی ماہ سے شام اور اردن کی سرحد پر عارضی خيمے لگا کر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں اور یہ اردن ميں داخل ہونے کی اجازت کے منتظر ہیں۔شامی سرحد کے اندر صحرائی علاقے میں ان پناہ گزينوں کا گزر بسر امداد پر ہے۔

ہزاروں شامی مہاجرين کئی ماہ سے شام اور اردن کی سرحد پر عارضی خيمے لگا کر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں

ہزاروں شامی مہاجرين کئی ماہ سے شام اور اردن کی سرحد پر عارضی خيمے لگا کر زندگی بسر کرنے پر مجبور ہیں

گزشتہ ہفتے سرحد کی بندش کے بعد عمان حکام نے يہ عنديہ ديا تھا کہ بارڈر کا جلد دوبارہ کھولنے کا فی الحال کوئی امکان نہيں۔ اردنی حکومت نے بين الاقوامی امدادی ايجنسياں کو ہدایت کی ہے کہ وہ پناہ گزينوں تک امداد پہنچانے کے لیے متبادل راستے کو تلاش کريں۔ حکومتی ترجمان محمد مومانی نے مہاجرين تک امداد کی ترسيل کے بارے ميں بات کرتے ہوئے کہا، ’’يہ بين الاقوامی اور اقوام متحدہ کا مسئلہ ہے، اردن کا نہيں۔‘‘

ايک امدادی کارکن نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کی شرط پر بتايا کہ پچھلے منگل کو سرحد بند کرنےکے بعد سے اب تک شامی پناہ گزینوں کے لیے پينے کے پانی کی يوميہ کھپت کی ترسيل نصف ہو کر رہ گئی ہے، جو انتہائی کم ہے۔ اس نے مزيد بتايا کہ پچھلے ہفتے کے دن اردنی حکام نے پانی کی ايک سپلائی واپس بھيج دی تھی۔ ’ورلڈ فوڈ پروگرام‘ کی علاقائی کوآرڈینیٹر عبير عیطیفا کے مطابق حملے کے بعد سے اب تک مہاجرين کے ليے خوارک روانہ نہيں کی جا سکی ہے۔

شام ميں مارچ سن 2011 سے جاری خانہ جنگی کے سبب اب تک پانچ ملين سے زائد ملکی شہری نقل مکانی پر مجبور ہو چکے ہيں۔ اردن ميں ساڑھے چھ لاکھ کے لگ بھگ شامی تارکين وطن پناہ ليے ہوئے ہيں۔