1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی ریاستی جیلوں میں سترہ ہزار قیدی ہلاک ہوئے، ایمنسٹی

انسانی حقوق کی علمبردار تنظیم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی ایک تازہ رپورٹ کے مطابق شامی ریاستی جیلوں میں گزشتہ پانچ برسوں کے دوران سترہ ہزار سے زائد قیدی تشدد، بیماریوں اور دیگر وجوہات کی وجہ سے ہلاک ہو گئے۔

شام کی نوجوان اور سرگرم خاتون کارکن لامہ کو ایک ماہ سے زائد عرصے کے لیے شام کی مختلف جیلوں میں رکھا گیا تھا۔ اس دوران اسے تشدد کا نشانہ بھی بنایا گیا، ٹائلٹ کے استعمال سے بھی روکا جاتا تھا جبکہ جیل میں اس کی دیگر ساتھی خواتین کو وقفے وقفے سے کوڑے بھی مارے جاتے تھے۔ لیکن لامہ پھر بھی خوش قسمت ہے کیوں کہ اس کا شمار ان سترہ ہزار قیدیوں میں نہیں ہوتا، جو گزشتہ پانچ برسوں کے دوران حکومتی تحویل میں مارے گئے۔

شامی جیلوں میں تشدد اور ہلاکتوں کے حوالے سے یہ تازہ رپورٹ لندن میں قائم ایمنسٹی انٹرنیشنل کی طرف سے جمعرات کو جاری کی گئی ہے۔ ’’بریک دا ہیومن‘‘ نامی اس رپورٹ میں ان پینسٹھ افراد کے انٹرویوز بھی شامل کیے گئے ہیں، جنہیں حکومتی جیلوں میں تشدد کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ شامی خفیہ ایجنسی اور اس کے ذیلی اداروں کی طرف سے گرفتار کیے جانے والے زیادہ تر افراد کو دمشق کے مضافات میں واقع صيدنايا کی فوجی جیل میں رکھا جاتا ہے اور وہاں کے حالات انتہائی غیر انسانی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق حکومتی جیلوں میں تشدد کا ایک طریقہ یہ بھی ہے کہ قیدیوں کو ایک بڑے ٹائر میں پھنسا دیا جاتا ہے اور پھر ان کے پاؤں کے تلووں پر کوڑے مارے جاتے ہیں۔ بتایا گیا ہے کہ جیل کے ذمہ دار حکام قیدیوں کو بجلی کے جھٹکے بھی لگاتے ہیں، انہیں ریپ بھی کیا جاتا ہے، جنسی تشدد کا بھی نشانہ بنایا جاتا ہے اور ان کے ناخن بھی کھینچے جاتے ہیں۔

ایمنسٹی انٹرنیشنل کے مشرق وسطیٰ اور شمالی افریقہ کے پروگرام کے سربراہ فلپ لوتھر کا اس حوالے سے کہنا تھا، ’’اس رپورٹ میں قیدیوں کی لرزہ دینے والی کہانیاں شامل ہیں۔ اس میں بتایا گیا ہے کہ بند دروازوں کے پیچھے قیدیوں کے ساتھ خوفناک بدسلوکی معمول کی بات ہے۔‘‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ قیدیوں کو ہر مرحلے میں موت کا خطرہ رہتا ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ انسانی حقوق کی ان خلاف ورزیوں کا آغاز سن دو ہزار گیارہ کی بغاوت کے بعد سے شروع ہوا کیوں کہ حکومت نے ان تمام آوازوں کو کُچلنے کی کوشش کی، جو اس کے خلاف تھیں۔

سات جنوری دو ہزار پندرہ میں رہائی پانے والی لامہ آج کل یورپ میں رہتی ہیں اور ان کی درخواست پر ان کا مکمل نام شائع نہیں کیا جا رہا۔ چالیس دن تک جیل میں رہنے والی اس سرگرم کارکن کا کہنا تھا کہ حراست کے دوران اسے متعدد مرتبہ موٹی چھڑی سے مارا گیا۔ اس خاتون کا نیوز ایجنسی اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس کی ایک ساتھی خاتون کو تو کئی مرتبہ کوڑے لگائے گئے، یہاں تک کہ اس کی کمر پر نشان پڑ گئے جبکہ ایک کے ساتھ جنسی زیادتی کی گئی۔

رپورٹ کے مطابق گزشتہ پانچ برسوں میں مجموعی طور پر سترہ ہزار سات سو تئیس قیدی ہلاک ہوئے۔ لامہ کا کہنا تھا کہ وہ خود کو خوش قسمت تصور کرتی ہیں کہ وہ ابھی تک زندہ ہیں۔