1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی دستوں کی معرتہ النعمان کی طرف پیش قدمی

شام سے فرار ہونے والے شہریوں نے بتایا ہے کہ جسر الشغور کے قریب دیہات میں سینکڑوں افراد کو گھیرے میں لینے کے بعد شامی دستے اب ملک کے ایک اور شمالی شہر معرتہ النعمان کی طرف بڑھ رہے ہیں۔

جسرالشغور کے قریب شامی دستے

جسرالشغور کے قریب شامی دستے

پیر کو دیر گئے عینی شاہدوں نے بتایا کہ فوجی دستے اور بکتر بند گاڑیاں معرتہ النعمان سے 14 کلومیٹر دور واقع گاؤں Ahtam تک پہنچ گئے تھے۔ معرتہ النعمان میں بھی صدر بشار الاسد کے 11 سالہ دور حکومت کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرے ہوئے ہیں۔

اس سے پہلے شامی دستوں نے اتوار کے روز جسر الشغور نامی شہر کے خلاف فوجی کارروائی کی، جہاں حال ہی میں 120 فوجیوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیا گیا تھا۔ جہاں دمشق حکومت کے بیان کے مطابق ان فوجیوں کو ’مسلح گروہوں‘ نے ہلاک کیا، وہاں دیگر حلقوں کے مطابق ان فوجیوں کو اُنہی کے ساتھی فوجیوں نے مظاہرین پر گولی چلانے سے انکار کی پاداش میں ہلاک کر دیا تھا۔

شام اور ترکی کی مشترکہ سرحد کے قریب ترکی کی سرزمین پر سفید خیموں کی بستیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے

شام اور ترکی کی مشترکہ سرحد کے قریب ترکی کی سرزمین پر سفید خیموں کی بستیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے

جسر الشغور شام اور ترکی کی مشترکہ سرحد سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں کے ہزاروں شہری یہ سرحد عبور کر کے ترکی پہنچ چکے ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق اب تک ترکی پہنچنے والے شامی مہاجرین کی تعداد تقریباً سات ہزار تک پہنچ چکی ہے، جن کے لیے چار کیمپ قائم کیے گئے ہیں۔ مزید ہزارہا شامی شہری سرحد کے قریب شامی سرزمین پر ہی برستی بارش میں انتہائی ابتر حالات میں ڈیرے ڈالے ہوئے ہیں۔

دمشق حکومت کا بدستور یہ کہنا ہے کہ گزشتہ تین ماہ سے ملک میں جاری احتجاجی مظاہرے بیرونی طاقتوں کی طرف سے شروع کی گئی اُس پُر تشدد مہم کا ایک حصہ ہیں، جس کا مقصد شام میں فرقہ وارانہ منافرت کے بیج بونا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دمشق حکومت نے ملک میں زیادہ تر غیر ملکی صحافیوں کے داخلے پر پابندی عائد کر رکھی ہے۔

شام کے انسانی حقوق کے علمبردار گروپوں کا کہنا ہے کہ اب تک 1300 شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ ایک گروپ، سیرین آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کے مطابق پولیس اور فوج کے بھی 300 سے زیادہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

جسر الشغور شام اور ترکی کی مشترکہ سرحد سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں کے ہزاروں شہری یہ سرحد عبور کر کے ترکی پہنچ چکے ہیں

جسر الشغور شام اور ترکی کی مشترکہ سرحد سے 20 کلومیٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور وہاں کے ہزاروں شہری یہ سرحد عبور کر کے ترکی پہنچ چکے ہیں

دریں اثناء اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل بان کی مون نے پیر کو ارجنٹائن کی وزارتِ خارجہ میں ایک بیان میں کہا کہ شامی عوام کی تبدیلی کی خواہش کا جواب شامی حکومت نے ’’خوفناک حملوں‘‘ سے دیا ہے اور یہ کہ حالات بہت ہی تشویش ناک ہیں۔

اُدھر نیویارک میں اقوام متحدہ میں فرانس کے سفیر نے برازیل پر زور دیا ہے کہ وہ شامی حکومت کے خلاف یورپی ممالک کی جانب سے پیش کردہ مسودہ قرارداد کی حمایت کرے۔ واضح رہے کہ بھارت اور جنوبی افریقہ کی طرح برازیل کو بھی برطانیہ، فرانس، جرمنی اور پرتگال کے تیار کردہ اس مسودے کے حوالے سے تحفظات ہیں۔ روس اور چین نے کہا ہے کہ وہ اس مسودے کے خلاف ویٹو کا حق استعمال کر سکتے ہیں۔ ابھی یہ واضح نہیں ہے کہ اس مسودہ قرارداد پر ووٹنگ ہو گی یا نہیں اور اگر ہو گی تو کب ہو گی۔

رپورٹ: امجد علی

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس