1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی دارالحکومت میں اسلحے کے ڈپو پر اسرائیلی حملہ

اسرائیل نے شامی دارالحکومت دمشق میں اسلحے کے ایک ڈپو کو نشانہ بنایا ہے۔ اطلاعات کے مطابق اسلحے کا یہ ڈپو لبنانی حزب اللہ گروپ کے زیر استعمال تھا، جہاں ایران اسلحہ فراہم کرتا تھا۔

جمعرات 27 اپریل کو علی الصبح شامی دارالحکومت دمشق میں ایئرپورٹ کے قریب پہلے ایک بڑے دھماکے اور پھر فائرنگ کی آوازیں سنی گئیں۔ خبر رساں ادارے روئٹرز نے علاقائی انٹیلیجنس ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ یہ حملہ دمشق ایئرپورٹ کے قریب اسلحے کے ایک ڈپو پر کیا گیا، جو مبینہ طور پر حزب اللہ کے استعمال ہے اور جہاں ایران کی طرف سے کمرشل اور فوجی کارگو جہازوں کے ذریعے ہتھیار فراہم کیے جاتے ہیں۔

شامی تنازعے پر نظر رکھنے والی تنظیم سیریئن آبزرویٹری فار ہیومن رائٹس کی طرف سے قبل ازیں ایک ایسے بڑے دھماکے کی اطلاع دی گئی تھی، جس کی آواز پورے دمشق میں سنی گئی۔ آبزرویٹری کے رہنما رامی عبدالرحمان کے مطابق ایئرپورٹ روڈ کے قریب جمعرات کو علی الصبح ہونے والا یہ دھماکا اس قدر شدید تھا کہ اس کی آواز پورے دمشق میں سنی گئی۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ دھماکے کے بعد وہاں فائرنگ کی آوازیں بھی سنی گئیں۔

Syrien-Krieg Streitkräfte des Regimes führen Luftangriffe in Hamuriye, Ost-Ghouta

شام میں گزشتہ چھ برس سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک چار لاکھ سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں

خبر رساں ادارے روئٹرز کے ذرائع مطابق اسرائیلی حملے کا نشانہ بننے والے ڈپو میں بڑی مقدار میں ایسا اسلحہ آتا رہتا ہے، جو شامی صدر بشارالاسد کے سب سے بڑے علاقائی حلیف ملک ایران کی طرف سے تواتر کے ساتھ وہاں بھیجا جاتا ہے۔ یہ اسلحہ شامی باغیوں کے خلاف لڑنے والے حزب اللہ کے جنگجوؤں کو فراہم کیا جاتا ہے۔

شام میں گزشتہ چھ برس سے جاری خانہ جنگی کے نتیجے میں اب تک چار لاکھ سے زائد انسان ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ دو ملین سے زائد شامی مہاجرت اختیار کرنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔