1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی خانہ جنگی: اسد کا پہلا غیر ملکی دورہ، پوٹن سے ملاقات

شام میں خانہ جنگی کے آغاز کے بعد سے صدر بشار الاسد پہلی مرتبہ اپنے کسی غیر ملکی دورے پر ماسکو پہنچے، جہاں انہوں نے روسی صدر ولادیمیر پوٹن سے ملاقات کی۔ یہ بات بدھ اکیس اکتوبر کے روز شام کے سرکاری میڈیا نے بتائی۔

Symbolbild - Wladimir Putin und Bashar Assad

’اخباریہ‘ نیوز چینل کے مطابق شامی صدر نے ماسکو میں کل منگل بیس اکتوبر کے روز اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی

دمشق سے ملنے والی نیوز ایجنسی ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹوں کے مطابق 2011ء میں شام میں اسد حکومت کے خلاف احتجاجی مظاہروں کے ساتھ شروع ہونے والی خانہ جنگی کے دوران یہ بشار الاسد کا اب تک کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے۔ ’اخباریہ‘ نیوز چینل کے مطابق شامی صدر نے ماسکو میں کل منگل بیس اکتوبر کے روز اپنے روسی ہم منصب سے ملاقات کی۔

شام کے سرکاری میڈیا کے مطابق اس ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے مشرق وسطیٰ کی اس ریاست میں ’دہشت گردوں کے خلاف‘ دمشق اور ماسکو کے فوجی تعاون اور عسکری کارروائیوں کو جاری رکھنے کے موضوع پر تبادلہ خیال کیا۔

روس نے دمشق حکومت کی مدد کرتے ہوئے شام میں باغیوں کے خلاف اپنے فضائی حملوں کا آغاز 30 ستمبر کو کیا تھا۔ ماسکو کے سرکاری بیانات کے مطابق ان حملوں کے ذریعے دہشت گرد تنظیم اسلامک اسٹیٹ یا دولت اسلامیہ کے جہادیوں اور ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور اب تک جنگی طیاروں سے کیے گئے سینکڑوں حملوں میں کئی سو دہشت گرد ہلاک کیے جا چکے ہیں۔

Syrien - Russische Soldaten unterstützen Assad

روس نے دمشق حکومت کی مدد کرتے ہوئے شام میں باغیوں کے خلاف اپنے فضائی حملوں کا آغاز 30 ستمبر کو کیا تھا

نیوز ایجنسی اے ایف پی نے ماسکو میں کریملن کے ترجمان دیمیتری پَیسکوف کے حوالے سے لکھا ہے کہ بشار الاسد کی ولادیمیر پوٹن کے ساتھ ملاقات کل منگل کی شام کو ہوئی، جو ایک ’ورکنگ وزٹ‘ کا حصہ تھی۔ ترجمان نے یہ نہیں بتایا کہ آیا شامی صدر اسد ابھی تک روس میں ہیں۔

شامی خانہ جنگی کا آغاز 2011ء کے اوائل میں ہوا تھا اور اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق اب تک اس جنگ میں کم از کم بھی ڈھائی لاکھ انسان مارے جا چکے ہیں جبکہ کئی ملین شہری اپنے گھر بار سے محروم ہو جانے کے بعد اندرون ملک یا پھر ہمسایہ ریاستوں اور یورپ میں پناہ لے چکے ہیں۔