شامی حکومت اور باغیوں میں فائربندی، عملدرآمد آج رات سے ہوگا | حالات حاضرہ | DW | 29.12.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی حکومت اور باغیوں میں فائربندی، عملدرآمد آج رات سے ہوگا

روسی صدر پوٹن نے کہا ہے کہ شامی حکومت اور شامی اپوزیشن کے گروپوں کے درمیان جنگ بندی پر اتفاق ہو گیا ہے۔ اس فائر بندی پر عملدرآمد آج جمعرات اور جمعے کی نصف شب سے شروع ہو گا۔

روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے شام میں بڑے پیمانے پر کی جانے والی جنگ بندی کے حوالے سے کہا کہ اس کے ضامن روس، ایران اور ترکی ہیں۔ انہوں نے اس کا اعتراف کیا کہ متحارب گروپوں کے درمیان بظاہر یہ ایک کمزور فائربندی ہے لیکن خلاف ورزیوں سے روکنے کی ہر ممکن کوشش جاری رکھی جائے گی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ شام میں روسی فوج کے حجم کو کم کرنے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

شام میں فائربندی کے لیے مزید بات چیت کا سلسلہ وسطی ایشیائی ریاست قزاقستان کے دارالحکومت آستانہ میں جاری رکھا جائے گا۔ اس میں شامی حکومت اور کئی مختلف باغی گروپوں کے نمائندے شریک  ہوں گے۔ امکاناً یہ مذاکراتی عمل اگلے برس کے پہلے مہینے جنوری میں ہو گا۔

روس صدر کی پریس بریفنگ میں وزیر دفاع کے علاوہ وزیر خارجہ سیرگئی لاوروف بھی موجود تھے اور انہوں نے اس یقین کا اظہار کیا کہ امریکا بھی اِس فائربندی کی ڈیل کو تسلیم کرتے ہوئے اس کا احترام کرے گا۔ لاوروف نے یقین کا اظہار کیا کہ جنوری میں منصبِ صدارت سنبھالنے والے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی روسی کاوشوں کا حصہ بنیں گے۔

Russland Jahrespressekonferenz Wladimir Putin (picture-alliance/AP Photo/P. Golovkin)

شام کے لیے فائربندی ڈیل کا اعلان روسی صدر ولادیمیر پوٹن نے کیا

روس کے وزیر دفاع  سیرگئی شوئیگو کے مطابق طے پانے والی ڈیل میں ساٹھ ہزار سے زائد باغیوں کے مختلف گروپ شامل ہیں لیکن اقوام متحدہ کی جانب سے دہشت گرد گروپوں سے کوئی فائر بندی نہیں کی گئی۔ شوئیگو کی مراد سابقہ النصرہ فرنٹ اور موجودہ فتح الشام فرنٹ اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ ہے۔

شامی اپوزیشن گروپ نے بھی روسی صدر کے اعلان کی تائید کرتے ہوئے بتایا کہ سارے ملک میں جنگ بندی پر اتفاق رائے پیدا ہو گیا ہے اور اعتدال پسند باغی اِس پر عمل پیرا ہوں گے۔ شامی اپوزیشن کے قومی اتحاد کے احمد رمضان نے فائر بندی معاہدے کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ اِس کے تحت فضائی حملوں اور گولہ باری کا سلسلہ بھی بند کر دیا جائے گا۔

احمد رمضان کے مطابق اعتدال پسند باغیوں کے مختلف گروپوں پر مشتمل فری سیریا آرمی اِس ڈیل پر یقینی طور پر عمل کرے گی اور حکومت کی جانب سے ہونے والی کسی بھی خلاف ورزی کا بھرپور اور پوری شدت سے جواب دیا جائے گا۔ شام کی فوج نے اس ڈیل کی مناسبت سے واضح کیا ہے کہ اس میں القاعدہ کی ذیلی شاخ فتح الشام محاذ اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ شامل نہیں ہے اور انہیں بدستور شامی فوج نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھے گی۔

شامی باغیوں کے ایک بڑے گروپ فستقیم کے سربراہ ذکریا مالہیفی کا کہنا ہے کہ فائربندی میں وہ علاقے شامل نہیں جن پر سابقہ النصرہ فرنٹ اور ’اسلامک اسٹیٹ‘ کا قبضہ اور کنٹرول ہے۔