1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی حکومت انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث، اقوام متحدہ

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن نے شامی سکیورٹی فورسز پر حکومت مخالفین پر تشدد کرنے اور اس دوران انسانیت کے خلاف جرائم میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے۔

default

انسانی حقوق کی تنظیم ایمنیسٹی انٹرنیشنل نے اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی یہ رپورٹ سامنے آنے کے بعد اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل سے شامی حکومت کے خلاف فیصلہ کن کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔ تنظیم نے سلامتی کونسل کے پندرہ رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ صدر بشار الاسد کی حکومت پر اسلحے کی پابندی عائد کرے اور حکومتی اثاثے منجمد کرے۔ خیال رہے کہ سلامتی کونسل ہنوز شام کے حوالے سے کوئی متفقہ قراردار منظور کرنے میں ناکام رہی ہے۔

Syrien Proteste gegen Präsident President Bashar Assad

سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اب تک ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں

شام میں کئی ماہ سے جاری حکومت مخالف تحریک کو کچلنے کے لیے شامی سکیورٹی فورسز وسیع پیمانے پر طاقت کا استعمال کر رہی ہیں۔ ایک اندازے کے مطابق سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں اب تک ساڑھے تین ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ بین الاقوامی برادری شامی حکومت پر کریک ڈاؤن بند کرنے کے لیے مستقل دباؤ ڈالے ہوئے ہے۔ حال ہی میں عرب ممالک کی تنظیم عرب لیگ نے بھی شام پر اقتصادی اور سفری پابندیاں عائد کی ہیں۔

اقوام متحدہ کے انسانی حقوق کے کمیشن کی رپورٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے انسانی حقوق کی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے کہا کہ اب اس کمیشن کو چاہیے کہ اپنا مقدمہ سلامتی کونسل کے سامنے پیش کرے۔ ہیومن رائٹس واچ کی جانب سے جاری بیان کے مطابق، ’’اقوام متحدہ کے کمیشن کو چاہیے کہ وہ رپورٹ پر عمل درآمد کے لیے سلامتی کونسل سے رجوع کرے اور شام کا کیس بین الاقوامی فوجداری عدالت میں بھی لے جائے۔‘‘

اقوام متحدہ میں امریکہ کی سفیر سوزن رائس نے اقوام متحدہ کی رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ رپورٹ صدر بشار الاسد کی ’بربریت‘ پر مبنی کارروائیوں کی جانب توجہ دلاتی ہے۔

رپورٹ: شامل شمس ⁄ خبر رساں ادارے

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM