1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی جنگ کو ختم کیا جائے، ’مایوس‘ مغربی طاقتوں کی اپیل

مایوس ہوتی ہوئی مغربی طاقتوں نے آج پیرس اجلاس کے دوران شامی حکومت اور اپوزیشن کے مابین امن مذاکرات کی بحالی کی اپیل کی ہے تاکہ اس جنگ کو ختم کیا جا سکے، جو اب تک تین لاکھ سے زائد افراد کو نگل چکی ہے۔

ماہرین کے مطابق ایک ایسے موقع پر جب شامی فورسز روسی فضائیہ کی مدد سے حلب پر مکمل کنٹرول حاصل کرنے کے لیے پیش قدمی کرتی جا رہی ہیں، مغرب کی بے بسی کو واضح دیکھا جا سکتا ہے۔ آج فرانس کے دارالحکومت پیرس میں ہونے والے اجلاس میں نہ صرف سرکردہ مغربی ممالک بلکہ خلیجی ممالک کے نمائندے بھی شریک تھے تاکہ شامی اپوزیشن  کے ساتھ صلاح و مشورے کیے جا سکیں۔

اس اجلاس میں امریکی وزیر خارجہ جان کیری کا مجموعی صورت حال کے تناظر کہنا تھا، ’’ مایوسی کا اظہار کرنے اور ہاتھ ملنے کی نسبت یہ کچھ زیادہ کرنے کی ایک کوشش ہے۔‘‘

امریکی وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا، ’’حکومت کی طرف سے حلب پر اندھا دھند بم حملے جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم ہیں۔‘‘ انہوں نے روس اور اسد حکومت کے ایک اور حلیف ملک ایران سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ ’’رحم کا مظاہرہ‘‘ کریں اور اس کے خاتمے میں مدد دیں۔

 پیرس کی میٹنگ میں شامل فرانسیسی وزیر خارجہ ژاں مارک ایغو اور شامی اپوزیشن کے مرکزی نمائندے ریاض حجاب نے بھی چھ سالہ پرانے اس تنازعے کا سفارتی حل تلاش کرنے پر زور دیا۔ فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا، ’’ ہمیں حقیقی سیاسی تبدیلی کے لیے شرائط واضح کرنا ہوں گی۔ مذاکراتی عمل اقوام متحدہ کی منظور شدہ قرار داد 2254 کے دائرے میں واضح بنیادوں پر شروع کیا جانا چاہیے۔‘‘ مرکزی اجلاس کے بعد حجاب کے ساتھ مغربی اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے نمائندوں نے علیحدہ علیحدہ بات چیت بھی کی۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کے مطابق اپوزیشن کسی بھی شرط کے بغیر مذاکرات میں حصہ لینے پر آمادہ ہو گئی ہے لیکن نیوز ایجنسی اے ایف پی نے اپنے سفارتی ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ اپوزیشن نے شام میں سیاسی تبدیلی کے بعد مذاکرات میں حصہ لینے پر آمادگی ظاہر کی ہے۔

فرانسیسی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ حلب پر حکومتی کنٹرول کے باوجود بھی شام کے بہت سے حصے باغیوں اور جہادیوں کے کنٹرول میں رہیں گے اور لڑائی کا سلسلہ بدستور جاری رہے گا۔ ان کا سوال کرتے ہوئے کہنا تھا، ’’یہ کس طرح کا امن ہو گا اگر صرف قبروں میں ہی امن چاہیے تو۔‘‘

برطانوی وزیر خارجہ بورس جانسن کا اسد کو پیغام دیتے ہوئے کہنا تھا، ’’شام کا کوئی فوجی حل موجود نہیں ہے۔‘‘  اسی طرح ان کے جرمن ہم منصب فرانک والٹر شٹائن مائر نے حیرانی کا اظہار کرتے ہوئے کہا، ’’ بین الاقوامی برادری حلب کے مصائب دیکھ کر دنگ رہ گئی ہے۔ ہمارے پاس وہ لفظ ہی نہیں ہیں، جو حلب میں روز مرہ کی صورتحال کو بیان کر سکیں۔‘‘

انہوں نے اپیل کرتے ہوئے کہا ہے کہ حلب کے شہریوں کو محفوظ راستہ فراہم کیا جائے۔

باغیوں نے سن 2012ء میں حلب کا کنٹرول حاصل کیا تھا اور اب حکومتی فورسز اس کے 85 فیصد علاقے کو اپنے زیر کنٹرول کر چکی ہیں۔

DW.COM