1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی جنگ میں مداخلت، اقوام متحدہ کی کمیٹی کی طرف سے ایران کی مذمت

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کی کمیٹی برائے انسانی حقوق کی طرف سے ایک قرار داد منظور کی گئی جس میں شامی جنگ میں مداخلت پر ایران اور روس کی مذمت کی گئی ہے۔ اس قرارداد کا مسودہ سعودی عرب کی طرف سے تیار کیا گیا تھا۔

تاہم اس فیصلے کو ایرانی اور روسی وفود نے رد کرتے ہوئے اسے غیر منصفانہ قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ اس سے شام کی صورتحال کو بہتر کرنے میں کوئی مدد نہیں ملے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق جمعرات 19 نومبر کو منظور کی جانے والی یہ قرارداد نان بائنڈنگ ہے یعنی اس پر عملدرآمد لازمی نہیں ہے۔ سعودی عرب کی تیار کردہ اس قرار داد کے معاونین میں قطر اور دیگر عرب ممالک کے علاوہ امریکا اور مغربی ممالک بھی تھے اور اسے 193 رکنی جنرل اسمبلی کی تیسری کمیٹی میں منظور کیا گیا۔ اس قرارداد کے حق میں 115 ووٹ پڑے جبکہ مخالفت میں صرف 15۔ تاہم 51 دیگر نے ووٹنگ میں حصہ لینے سے احتراز کیا۔

روس کا براہ راست نام لیے بغیر اس قرار داد میں کہا گیا ہے کہ جنرل اسمبلی ’’شام کی اعتدال پسند اپوزیشن پر تمام حملوں کی سخت مذمت کرتی ہے اور انہیں فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کرتی ہے، کیونکہ اس طرح کے حملے ISIL (داعش) اور دیگر دہشت گرد گروہوں مثال کے طور پر النصرہ فرنٹ کو فائدہ پہنچا رہے ہیں۔‘‘

روئٹرز کے مطابق اس قرارداد کی زبان سے براہ راست روس کو نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ وہ گزشتہ دو مہینوں سے شامی اپوزیشن پر بمباری کر رہا ہے۔ ماسکو حکومت کا کہنا ہے کہ وہ دہشت گرد گروپ داعش کو نشانہ بنا رہی ہے جبکہ مغربی حکام کا کہنا ہے کہ ان حملوں کا زیادہ تر نشانہ دیگر اپوزیشن گروپ بنے ہیں جن میں مغربی حمایت یافتہ باغی گروپ بھی شامل ہیں۔

اس قرارداد میں شام میں ’’تمام غیر ملکی دہشت گرد جنگجوؤں۔۔۔ اور شامی حکومت کی طرف سے لڑنے والی غیر ملکی فورسز کی مذمت کی گئی ہے، خاص طور پر قدس بریگیڈ اور (ایران کی) اسلامی انقلابی گارڈز اور حزب اللہ جیسے ملیشیا گروپ وغیرہ۔‘‘ قرا داد میں مطالبہ کیا گیا ہے تمام غیر ملکی ملیشیا فوری طور پر شام سے واپس چلی جائیں۔

اس قرارداد کی زبان سے براہ راست روس کو نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ وہ گزشتہ دو مہینوں سے شامی اپوزیشن پر بمباری کر رہا ہے

اس قرارداد کی زبان سے براہ راست روس کو نشانہ بنایا گیا ہے کیونکہ وہ گزشتہ دو مہینوں سے شامی اپوزیشن پر بمباری کر رہا ہے

اقوام متحدہ میں سعودی عرب کے سفارت کار عبداللہ المعلمی نے تین سالہ شامی بچے ایلان کُردی کی ہلاکت کا حوالہ دیتے ہوئے اقوام متحدہ کی رُکن ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اس قرارداد کی حمایت کریں۔ اس تین سالہ بچے کی لاش رواں برس ستمبر میں ترکی کے ساحل پر ملی تھی۔ ایلان اپنی والدہ اور بھائی کے ساتھ سمندر میں ڈوب کر ہلاک ہو گیا تھا۔ المعلمی کا کہنا تھا، ’’میں آپ سے درخواست کرتا ہوں کہ ایلان کو شکست نہ ہونے دیں، اسے دوبارہ ہلاک نہ کریں۔‘‘

اقوام متحدہ میں شام کے سفارت کار بشار جعفری نے اس قرارداد کو مسترد کرتے ہوئے اور اس کے سعودی مصنفین پر سعودی عرب میں انسانی حقوق کا حوالہ دیتے ہوئے منافقت کا الزام عائد کیا ہے۔ انہوں نے سعودی عرب میں عوامی مقامات پر لوگوں کو کوڑے مارنے اور ان کے سر قلم کرنے کو اسلامک اسٹیٹ کے مظالم کی طرح قرار دیا۔ انہوں نے سعودی عرب، قطر اور ترکی پر الزام لگایا کہ وہ شام میں دہشت گردوں کی مدد کر رہے ہیں۔ تاہم ان تینوں ممالک کے وفود نے ان الزامات کو رد کر دیا۔

اقوام متحدہ میں ایران کے نائب سفارتکار غلام حسین دہقانی نے بھی اس قرارداد کو مسترد کر دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ قرارد نے ’دہشت گردوں اور ان لوگوں کے خلاف لڑنے والوں کے درمیان تفریق‘ کو دھندلا دیا ہے۔