شامی جنگ سے بچ گئے اب سردی سے لڑائی جاری ہے | حالات حاضرہ | DW | 26.12.2017
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

شامی جنگ سے بچ گئے اب سردی سے لڑائی جاری ہے

خدیجہ العوش کا تعلق رقہ سے ہے اور وہ شامی خانہ جنگی کا بدترین وقت دیکھ چکی ہیں، مگر بے گھروں کے ایک کمیپ میں مقیم پانچ بچوں کی والدہ العوش شدید سردی کی وجہ سے اپنا ایک سات سال بچہ کھو چکی ہیں۔

خانہ جنگی کی وجہ سے گھر بار چھوڑنے پر مجبور ہزاروں شامی باشندے مختلف مہاجر کیمپوں میں پلاسٹک کے خیموں یا تباہ حال عمارتوں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں اور دوسری جانب ان افراد کو شدید سردی کا سامنا ہے۔

سربیا میں پھنسے مہاجر اور شدید جاڑے کے دن

پرانے کمبل سردیوں کے لباس میں تبدیل

سربیا: مہاجرین  پر جوؤں اور سردی کے امراض کا حملہ

ان مہاجروں کو نہ تو گرم کپڑے دستیاب ہیں اور نہ ہی ہیٹنگ کا کوئی انتظام ہے، حتیٰ کہ ان کے پاس علاج معالجے تک کی سہولت میسر نہیں اور اس صورت حال میں سردی بھی ان کی اموات کا سبب بن رہی ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی سے بات کرتے ہوئے 35 سالہ خدیجہ العوش نے بتایا، ’’میرا بچہ سردی کی وجہ سے مر گیا۔‘‘

انہوں نے بتایا کہ وہ داعش کے مضبوط گڑھ الرقہ میں لڑائی شروع ہونے کے بعد اپنے بچوں کے ہم راہ علاقے سے نکلیں تھیں اور عین العیسیٰ نامی مہاجر کیمپ تک پہنچی تھیں۔ یہ مہاجر بستی الرقہ سے 50 کلومیٹر دور ہے۔

انہوں نے بتایا کہ رات کے اوقات میں یہاں درجہ حرارت چار ڈگری تک پہنچ جاتا ہے اور ان کے پاس نہ گرم لباس ہے اور نہ ہیٹنگ کا کوئی انتظام۔

العوش کے مطابق، ’’وہ کھانستا رہا اور نصف شب کے وقت اسے شدید بخار ہو گیا۔ اگلے روز وہ فوت ہو گیا۔‘‘ یہ کہتے ہوئے العوش نے اپنے باقی چار بچے اپنے بازوؤں میں سمیٹ لیے۔ ’’خدا ہمیں اس سردی سے محفوظ رکھے۔‘‘

ویڈیو دیکھیے 03:19

شدید سردی، مشرقی یورپ میں مہاجرین کا کیا ہو گا؟

یہ بات اہم ہے کہ قریب 17 ہزار افراد اس وقت عین العیسیٰ کی مہاجر بستی میں مقیم ہیں اور اس مقام پر مجموعی طور پر ڈھائی ہزار ٹینٹ نصب ہیں۔ یہاں موجود افراد میں سے زیادہ تر وہ ہیں جو الرقہ سے فرار ہو کر یہاں پہنچے تھے۔ دیرالزور صوبے کا علاقہ الرقہ کئی برس تک شدت پسند تنظیم اسلامک اسٹیٹ کا مضبوط ترین مرکز رہا تھا جب کہ یہ خودساختہ خلافت اسے اپنا دارالخلافہ بھی قرار دیتی تھی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic