1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

شامی تنازعے میں کرد فائدے میں کیوں؟

شام میں جلد فائربندی کی امید ہے۔ تاہم دوسری جانب صوبہ حلب میں لڑائی نتیجہ خیز مرحلے میں داخل ہو چکی ہے جبکہ ترکی کے حملے خطرناک ثابت ہو سکتے ہیں۔ تاہم غیر متوقع طور پر کرد اس صورتحال سے فائدہ اٹھا رہے ہیں۔

شامی خانہ جنگی میں ابتدا سے ہی کئی ڈرامائی موڑ آ چکے ہیں کیونکہ اس جنگ میں شریک مختلف فریق اپنے اپنے مفادات کے پیچھے لگے ہوئے ہیں۔ اس کی مثال گزشتہ ہفتے جرمن شہر میونخ میں ہونے والے اجلاس کی ہے، جس میں شام میں فائربندی کے معاہدے پر دستخط ہوئے۔ اس موقع کم از کم سترہ ممالک مذاکرات کی میز پر موجود تھے جبکہ شامی حکومت اور حزب اختلاف کا کہیں نام و نشان نہیں تھا۔

دوسری جانب شامی کردوں کے خلاف ترک کارروائیوں سے یہ جنگ مزید بین الاقوامی ہو گئی ہے اور اس میں شدت بھی آ گئی ہے۔ ساتھ ہی حلب میں فضا سے برسائے جانے والے روسی بم عام شہریوں اور جنگجوؤں میں تفریق نہیں کر رہے اور دونوں ہی ان کا نشانہ بن رہے ہیں۔

زمین پر صرف شامی صدر بشارالاسد کے دستے ہی نہیں بلکہ ایرانی عسکری ماہرین، افغانی، عراقی اور لبنانی شیعہ بھی دمشق حکومت کے لیے لڑ رہے ہیں۔ ان کے مخالفین مختلف مذہبی شدت پسند گروہ ہیں، جنہیں امریکا، ترکی، سعودی عرب، کویت اور قطر کی سرپرستی حاصل ہے۔

دفاعی شعبے کے ایک ترک تھنک ٹینک ’EDAM ‘ کے ماہرین نے ڈوئچے ویلے سے باتیں کرتے ہوئے کہا، ’’ سیاستدان کچھ بھی کہیں۔ تاہم عسکری حقیقت ترکی اور سعودی عرب کی جانب سے بڑی فوجی کارروائی شروع کرنے کے حق میں نہیں ہے۔‘‘ ترکی میں ہائنرش بول فاؤنڈیشن کے کرسٹیان براکل کہتے ہیں کہ ترکی کی بمباری انقرہ حکومت کی مایوسی اور بے چینی کو ظاہر کرتی ہے۔ اس دوران ترکی کی کوشش ہے کہ شام سے ملنے والی سرحد پر ’نو فلائی زون‘ قائم کر دیا جائے۔ ترکی کی اس تجویز کو جرمن چانسلر انگیلا میرکل بھی حمایت حاصل ہے۔

اسی عرصے میں کرد آئی ایس کے خلاف کارروائیوں میں خود کو ایک اہم قوت ثابت کر نے میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ اس طرح انہیں امریکا کی سرپرستی بھی حاصل ہو چکی ہے۔ اس کے ساتھ ہی کرد ملیشیا ’ وائی پی جی‘ روس کا ساتھ بھی دے رہی ہے۔ اس سے یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ روس اور شام کردوں کو امریکا سے زیادہ رعایتیں دینے پر تیار ہیں۔ اس صورتحال میں امریکا اور اس کے اتحادیوں کو مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے رکن ترکی کا بھی خیال رکھنا ہے کیونکہ ترکی امریکی کی جانب سے وائی پی جی کو کسی قسم کا بھی تعاون فراہم کرنے کے خلاف ہے۔